سونے کی طرح چمکتی دمکتی وفا شعار خدمت گزار بیوی کا ملمع اتر گیا تھا۔ اندر سے ممتا کی ماری ماں نکل آئی تھی۔ احمد صاحب کے  احسانات کا اچھا بدلہ چکایا تھا ان احسان فراموشوں نے۔ خیر دو کشتی کی سوار ان کی مسرت آراء ممتا کے ہاتھوں مجبور ہوکر رہ گئیں تھیں۔ ایک طرف مجازی خدا اور دوسری طرف جوان ہوتے بیٹے۔۔۔

بیگم سیدہ ناجیہ شعیب احمد  کراچی

مسرت آراء کے شوہر جواد الرحمن ایک کار حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔ بچے چوچھوٹے تھے، کرائے کا مکان، پھر بیوگی کا دکھ الگ۔ انہوں نے بوڑھے والدین کو مزید پریشانی سے بچانے کی خاطر دوسری شادی کی حامی بھر لی۔ مگر اس شرط پر کہ ان کے بچوں کی تعلیم و پرورش کی ذمہ داری میں ان کے ہونے والے شوہر پورا پورا ہاتھ بٹائیں گے۔

احمد صاحب خدا ترس اور نہایت شریف آدمی ہونے کے ساتھ ایک مشفق انسان بھی تھے۔ انہوں نے نہایت وسعت قلبی کے ساتھ مسرت آراء اور ان کے تینوں بیٹوں کو قبول کر لیا۔ اور بہت خوش اسلوبی کے ساتھ بیوی بچوں کی ذمے داریاں نبھانے لگے۔ وہ باقاعدگی سے بچوں کا تنقیدی جائزہ بھی لیتے رہتے۔ گویا سونے کا نوالا کھلا کر شیر کی آنکھ سے دیکھتے یہ بات ان بچوں کو بری طرح کَھلنے لگی۔ ایک رات دیر سے گھر آنے پر احمد صاحب نے بڑے بیٹے توصیف کو پیار سے سمجھایا اور گھر کا بڑا بیٹا ہونے کا احساس دلایا۔ توصیف کے دل میں پہلے ہی سے احمد صاحب کے لیے بغض بھرا ہوا تھا اس نے اپنے ننھیالی رشتے داروں سے شکایت لگا دی کہ ابو بلاوجہ پابندی لگاتے ہیں۔ ان رشتے داروں کا دل کون سا صاف تھا انہوں نے سمجھانے کے بجائے اور چنگاری کو اور ہوا دی کہ تم ان کے کون سے سگے بیٹے ہو سوتیلے ہو جب ہی تو اتنی روک ٹوک کرتے ہیں۔ یہ سن کر توصیف، احمد صاحب سے شدید بدظن رہنے لگا۔ احمد صاحب ہر ممکن کوشش کرتے کہ ان بچوں کو سوتیلے سگے کا فرق معلوم نہ ہونے دیں۔ اس فرق کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے جان و مال سے بیٹوں کا دل جیتنا چاہا۔ پڑھائی میں دل نہیں لگا تو اچھا ہنر دلانے کی کوشش کی۔ توصیف کی اس کی پسند کے مطابق خوب دھوم دھام سے اس کی شادی کی۔ منجھلے لڑکے واصف کو اس کی خواہش پر نئی کار خرید کر دے دی۔ مگر کینہ پرور رشتے داروں نے انہیں اپنی نفرت کا خوب نشانہ بنائے رکھا۔ پانی کی طرح پیسہ لٹانے کے باوجود ان بیٹوں نے سوتیلے پن کا لبادہ اوڑھے رکھا۔ توصیف کی دیکھا دیکھی واصف اور پھر چھوٹے لڑکے آصف نے بھی پر پرزے نکالنا شروع کر دیے۔ پڑھنے لکھنے میں دلچسپی لینے کی بجائے غیر ضروری سرگرمیوں میں ملوث رہنے والے لڑکوں کو بارہا سمجھانے کی کوشش کی مگر ماں ہمیشہ آڑے آ جاتی۔ ”رہنے دیں جی جوان خون ہے۔ سختی کرنا مناسب نہیں۔ میں سنبھال لوں گی۔“ سبنھالتیں کیا خاک؟ دیکھتے ہی دیکھتے چیونٹیوں کے پر نکلنے لگے۔ احمد صاحب بری طرح کلس کر رہ جاتے۔ وہ مسرت آراء کو باور کرواتے کہ دیکھو پانی سر سے اونچا ہوتا جا رہا ہے خبر لو مسرت آراء پہلے پہل تو بےبسی سے ہاتھ ملتی رہیں مگر چند ہی دنوں میں احمد صاحب کو اس وقت بری طرح دھچکا لگا جب انہوں نے لڑکوں کی غلط حرکتوں پر انہیں روکا ٹوکا تو مسرت آراء بپھری ہوئی شیرنی کی طرح ان پر غرانے لگیں۔ لڑکوں کو ماں کی دلیری سے ایسی شہ ملی کہ انہوں نے احمد صاحب کی مٹی پلید کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

سونے کی طرح چمکتی دمکتی وفا شعار خدمت گزار بیوی کا ملمع اتر گیا تھا۔ اندر سے ممتا کی ماری ماں نکل آئی تھی۔ احمد صاحب کے  احسانات کا اچھا بدلہ چکایا تھا ان احسان فراموشوں نے۔ خیر دو کشتی کی سوار ان کی مسرت آراء ممتا کے ہاتھوں مجبور ہوکر رہ گئیں تھیں۔ ایک طرف مجازی خدا اور دوسری طرف جوان ہوتے بیٹے۔ جو انہیں شدت سے اپنے ہونے کا احساس دلانے لگے تھے۔ احمد صاحب بھلے مانس آدمی تھے۔ خود پر خرچ کرنے سے پہلے اہل خانہ پر خرچ کرنا بڑا ثواب سمجھتے تھے۔ گھر میں سامان سے لدے پھندے آتے۔ کھلا ہاتھ تھا شوہر کی شاہ خرچیوں نے مسرت آراء کو موقع فراہم کر دیا وہ چوری چھپے اچھی خاصی رقم پس انداز کرنے لگیں۔ احمد صاحب کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ مال مفت دل بے رحم کے مصداق سوتیلے بیٹوں نے سوتیلے باپ کو دونوں ہاتھوں سے خوب لوٹا۔  لڑکوں کو لے کر گھر میں دن رات تو تو میں میں ہونے لگی۔ بات اکثر ہاتھا پائی تک جا پہنچتی۔ مسرت آراء بہت کچھ چھپانے لگیں تھیں۔ وہ بھی کیا کرتیں جوان بیٹوں کی ماں ہو کر بے بس اور مجبور تھیں کبھی کبھی وہ احمد صاحب کے سامنے بہت شرمندگی محسوس کرتی تھیں۔ احمد صاحب بیوی سے بہت محبت کرتے تھے مگر وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ممتا جیت گئی وہ ہار گئے ہیں۔ مسرت آراء بیمار رہنے لگیں تھیں ایک دن ایسا سوئیں کہ پھر نہ اٹھ سکیں۔ ان کے ناسمجھ، نادان اور ناخلف بیٹوں کو ننھیالی رشتے داروں نے ایسا بہکایا کہ ماں کی ناگہانی موت سے بھی ان کا دل نرم نہ ہوا. ماں کو دفنانے کے بعد انہوں نے اپنے سوتیلے باپ کو اپنی ماں کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ان کے اپنے ہی گھر میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی۔ مسرت آراء سے احمد صاحب کے دو بچے ہوئے تھے ایک بیٹی ایک بیٹا۔ بھائیوں کے دل میں ان دونوں کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں تھی۔ توصیف کی بیوی نے ساس کی آنکھیں بند ہوتے ہی پورے گھر پر قبضہ کر لیا۔ مسرت آراء نے اکلوتی بیٹی کے لیے شاید کچھ زیورات بنا رکھے تھے۔ سالی صاحبہ نے اسے اپنا کہہ کر ہتھیا لیا ۔ گھر میں اچھی خاصی تجوری میں محفوظ تھی۔ لڑکوں کی نانی نے یہ کہہ کر دبا لی کہ مسرت نے مجھ سے قرضہ لیا تھا۔ احمد صاحب تو بیوی کی موت کے غم و صدمے سے ہی نڈھال ہوگئے۔ وہ ان نوعمر بھڑکے ہوئے نوجوان لڑکوں اور تیز طرار بدنیت سسرال سے کیا جھگڑتے، اپنا ہی برا کرتے سو سر جھکائے کھڑے چپ چاپ آنسو بہاتے رہے. بالشت بھر لڑکے ان کے سامنے خوب چیختے چلاتے رہے۔

احمد صاحب نے ہونٹ سی لیے دونوں بچوں کو ساتھ لیا اور اپنا بسا بسایا گھر چھوڑ کر چلے آئے.

ان کے سیانے دوست احباب کہتے: "احمد صاحب! "پرایا دھن اور پرائی اولاد کبھی اپنی نہیں ہوتی."

یہ سن کر احمد صاحب مسکرا دیتے ہیں. کیوں کہ انہیں اپنی نیک نیتی پر پورا یقین ہے کہ وہ ضائع نہیں جائے گی۔ گو کہ مسرت آراء کے انتقال کے بعد کئی راز افشا ہوئے جن سے ان کا دل مرحومہ کی طرف سے کھٹا ہوا۔ مگر وہ ان کی آخری منزل کو مشکل نہیں بنانا چاہتے تھے لہٰذا انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر صرف اللہ کی خاطر دل سے مسرت آراء کو معاف کر دیا۔

مگر وہ آج بھی اکثر افسوس سے یہ کہتے سنائی دیتے ہیں:

”شوہر کی محبت کے آگے ممتا جیت جاتی ہے۔“

 

ختم شد