مما میں کب سے آپ کا ویٹ کر رہی تھی کہ جب آپ فری ہوں توآپ کو عاتکہ سے ملواوٴں، مماآئی کانٹ بےلیو داٹ شی از آور فیملی فرینڈ.مما کل جس کامپیٹیشن میں ،میں نے سیکنڈ پرائز ون کیا ہے عاتکہ اس کامپیٹیشن کی ونر ہے
جویریہ شعیب،انگلینڈ
"مبارک ہو، آپ کے گھر بیٹی پیدا ہوئی ہے۔" نرس کی آواز سن کر اس نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی.کتنا ارمان تھا اسے کہ پہلی اولاد بیٹا ہو مگر......
کئی دن تک اداسی چھائی رہی ۔ایسا نہیں تھا کہ اسے سسرال والوں کی طرف سے کوئی پریشانی تھی یا شوہر نے ناگواری کا اظہار کیا تھا مگر بات صرف اتنی تھی کہ شائستہ کا کوئی بھائی نہیں تھاوہ چار ہی بہنیں تھیں لہذا قدرتی طور پر اسے بیٹے کی ہی چاہت تھی.فرید صاحب اس کے شوہر خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہے تھے ،وہ عقل وسمجھ رکھتے تھے تھے،انہوں نے بیوی کی کو نبی کریمﷺ کی سنت کے بارے میں بتایا،قرآن و احادیث سےسمجھایا کہ وہ کتنی بڑی نعمت سے نوازی گئی ہے اورساتھ ہی اس پر کتنی بڑی ذمے داری عائد ہوئی ہے جس کی اسے فکر کرنی ہے۔غرض ہر طرح سے اس کی دلجوئی کی ۔شکر ہے بات شائستہ کی سمجھ میں آگئ اور وہ ننھی عاتکہ کی دیکھ بھال میں مگن ہو گئ۔
گذرتے وقت کے ساتھ اللہ نے اس کی جھولی میں قاسم اور اطروبہ کا اضافہ کر دیا۔شوہر کی نصیحت کو اس نے پلو سے باندھ لیا تھا.
واقعی پھر سب نے دیکھا کہ شائستہ نے اپنے بچوں کو دین و دنیا دونوں سے آراستہ کیا۔
اسی دوران اس کی ملاقات پچپن کی سہیلی عابدہ سے ہوئی.عابدہ نے اسے کھانے کی دعوت پر بلایا اور یوں ان کو ایک بار پھر مل بیٹھ کر ماضی کی یادیں تازہ کرنے کا موقع مل گیا۔
شائستہ نے دعوت والے دن سویرے ہی گھر کا کام ختم کیا اور بچوں کے ساتھ عابدہ کے گھر پہنچ گئی ۔عابدہ تو پہلے ہی سے جیسے دیدہ و دل فراش کئے بیٹھی تھی کھانے کے بعد باتوں کا دور شروع ہوا،اچانک عابدہ کہنے لگی:
''شائستہ یہ تم نے اپنی بیٹیوں کی کیا حالت بنا رکھی ہے''؟
''ہیں کیا مطلب''؟شائستہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بارہ سالہ عاتکہ اور سات سالہ اطروبہ کو دیکھا،دونوں برآمدے میں اپنی میزبان کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھیں،عابدہ کی بیٹی عاتکہ کی ہی ہم عمر تھی اور وہ اس وقت ان کو اپنا لیپ ٹاپ دیکھا رہی تھی ۔عابدہ نے شائستہ کو کھوجتی نظروں سے دیکھا اور پھر کہنے لگی ، یہ تو مجھے معلوم تھا کہ تمھیں بیٹے کی بہت چاہت تھی مگرمجھے تم سے یہ امید نہ تھی کہ تم اپنی بیٹیوں کو یوں نظر انداز کرو گی ۔یہ ماسیوں کی طرح دوپٹا اور اولڈ اسٹائل کپڑے یہ سب کیا ہے یار؟ زمانہ بدل گیا ہے،اب میری مونا کو دیکھ لو میں نے کبھی اپنے بیٹے اور بیٹی میں فرق نہیں کیا.دیکھو میری بیٹی لڑکوں کے ساتھ پڑھتی ہے ،ہر طرح کے مقابلوں میں حصہ لیتی ہےابھی کل ہی ایک مقابلے میں سیکنڈ پوزیشن لی ہے جانتی ہو ہزاروں کے مجمع میں کتنے اعتماد سے تقریر کی ہے اس نے.اور ایک تم ہو لگتا ہے کہ بچیوں کو زندان سے نکال کر لائی ہو، دیکھو میری بات کا برا مت منانا لیکن.......
''ایک منٹ رکو،آگے کچھ بھی کہنے سے پہلے میری ایک بات سن لو۔
ابھی تو عابدہ نہ جانے مزید کیاکیا کہتی کہ شائستہ جو بت بن کر اس کی باتیں سن رہی تھی، اچانک ہی جیسے ہوش میں آ گئی.یہ سچ ہے کہ ہم بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور تم میرے ماضی سے واقف ہو، پر جس طرح تم پہلے جیسی نہیں رہیں اسی طرح میری سوچ بھی بدل گئی ہے۔
''ہیں کیا کہا میں پہلے جیسی نہیں رہی''۔
عابدہ نے آنکھیں نکالیں۔ بھئ دیکھو پہلے تم کتنی کم گو ہوا کرتی تھیں اور آج دیکھو تمہیں بریک لگانے پڑتے ہیں ایک بار شروع ہوئی ہو تو چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں ۔شائستہ نے اسے شرمندہ کرنا چاہا۔
ہاں تو ٹھیک کرتی ہوں نا،ارے عورت کوئی بے زبان مخلوق نہیں ہے کہ جو چاہے...
''ارے ارے بس کرو یہاں کوئی تقریری مقابلہ نہیں ہو رہا کہ دھواں دھار شروع ہو گئیں''.شائستہ نے
گھبرا کر کہا تو عابدہ کو ہنسی آگئی۔
اچھا تو سنو عابدہ کیا تم نےفقط میری بیٹیوں کی ڈریسنگ ہی دیکھ کر انہیں دقیانوسی یا مظلوم خیال کیا ہے یا ان سے کوئی بات چیت بھی کی ہے؟
آں نن نہیں بات تو باقاعدہ کوئی نہیں کی مگرررر وہ... عابدہ نے بات درمیان میں چھوڑ دی ۔
اچھاپھر یہ لو شائستہ نے آواز لگائی عاتکہ بیٹا یہاں آنا اور مونا اور اطروبہ کو بھی لے آنا۔مونا نے ماں کو فارغ دیکھا تو کہنے لگی :مما میں کب سے آپ کا ویٹ کر رہی تھی کہ جب آپ فری ہوں توآپ کو عاتکہ سے ملواوٴں، مماآئی کانٹ بےلیو داٹ شی از آور فیملی فرینڈ.مما کل جس کامپیٹیشن میں ،میں نے سیکنڈ پرائز ون کیا ہے عاتکہ اس کامپیٹیشن کی ونر ہے.اور یو نو وٹ ناوٴ وی آر بیسٹ فرینڈزٹو. مونا پرجوش انداز میں ماں کا ہاتھ پکڑے اسےعاتکہ سے متعارف کروا رہی تھی۔
اچھا بھئ پڑھنے کے علاوہ اور کیا اچھا لگتا ہے ہماری بیٹی کو؟ عابدہ کو عاتکہ سے باتیں کرنا دلچسپ لگ رہا تھا۔
آنٹی مجھے (خطاطی) کا بہت شوق ہے،میرے بابا میرے لیئے بہت سارے برش اور پینٹ لائے ہیں اور اگلے اتوار کو میں بابا کے ساتھ ایک ایگزیبیشن میں جاوٴں گی تاکہ اچھی اچھی پینٹگز دیکھوں.عاتکہ نے بات ختم کی تو اطروبہ نے اپناحصہ ملانا ضروری سمجھا اور آنٹی پتا ہے جب میں نے سورہ رحمٰن یاد کی تھی نا تو بابا میرے لیےسائیکل لائے تھے۔
بچوں سے کچھ دیر تک وہ دونوں ان کے مشاغل کے بارے میں پوچھتی رہیں پھر عابدہ نے انہیں آئسکریم دی تو وہ پھر سے آپس میں مصروف ہو گئیں.شائستہ نےعابدہ سے وہیں سے بات شروع کی جہاں تک ادھوری چھوڑی تھی،یہ سچ ہے کہ میرے دل میں بیٹے کی شدید خواہش تھی جو کہ اللہ نے پوری بھی کی اس نے ڈھائی سالہ قاسم کی طرف دیکھا،اگر فرید میری رہنمائی نہ کرتے تو نجانے میں کیا کرتی ، بیٹی کی پرورش اوراچھی تربیت پر اللہ نے جن انعامات کا وعدہ اللہ نے کیا اور جس طرح نبی کریمﷺ نےترغیب دی وہ سب سن کر میری آنکھیں کھل گئیں.اپنےپروردگار کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ میں تواس انعام کے قابل ہی نہیں۔ شکر اس کی زبان ہی نہیں بلکہ آنکھوں سے بھی چھلک رہا تھا۔اور عابدہ سوچوں میں گم تھی کہ اچھی تربیت کون سی ہے وہ جو پچھلے بارہ سالوں سے وہ اپنی اکلوتی بیٹی کی کرتی آئی ہے یا وہ جو شائستہ نے کی ہے۔ابھی کچھ دیر پہلے تک وہ شائستہ کو انتہا پسند سمجھ رہی تھی وہ سوچا کرتی تھی کی مذہبی باتیں کرنے والے لوگ اپنے بچوں کو صرف نماز روزے کے علاوہ کچھ سکھا ہی نہیں پاتے، ان کے بچے صرف کسی مسجد میں مولوی بننے کے علاوہ کوئی اور پروفیشن اپنا ہی نہیں سکتے،ترقی کی دوڑ میں پیچھےبلکہ بہت پیچھے ہوتے ہیں لیکن آج احساس ہوا کہ وہ بھی تو انتہا پسند ہی تھی جس نے اپنی بیٹی کو دنیا تو ضرورت سے زیادہ ہی سکھا دی تھی مگر دین کے بارے میں کچھ معلومات دی ہی نہیں تھی ، اس کو تو شاید یاد بھی نہ تھا کہ مونا کون سے پارے میں ہے.ہوم ورک تو وہ روز ڈائری دیکھ کر کراتی تھی مگر قرآن یا کلمے سننے یاد ہی نہیں رہتے تھے۔اسے لگا کہ اصل علم تو شائستہ نے اپنے بچوں کو دیا ہے دین و دنیا دونوں کی آگہی۔
خیر دیر تو ابھی بھی نہیں ہوئی تھی. اس سوچ نے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دی.