اب چونکہ زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے اور ہمارے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت نہیں ہے تو دسترخوان کی روایت ناپید ہوتی جا رہی ہے ۔ گھر کے کسی فرد کے پاس وقت نہیں کہ وہ سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکے۔ ہم جتنا مصروف ہوتے جارہے ہیں ، اتنا ہی گھر والوں سے دور ہوتے جارہے ہیں
منیبہ ادریس
دسترخوان کا مطلب وہ چوکور یا مستطیل کپڑا ہے جسے بچھا کر اس پر کھانا چن دیا جاتا ہے اور گھر کے سب افراد ساتھ مل کر کھانا کھاتے ہیں ۔ دسترخوان بچھا کر کھانا کھانے کا عمل بہت قدیم ہے اور ہماری تہذیب و ثقافت کا حصہ بھی ہے ۔ دسترخوان بچھا کر کھانا کھانے کا عمل نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ کھانا کھانے کے دوران تمام افراد ایک دوسرے کو وقت دیتے ہیں، ایک دوسرے کی بات توجہ سے سنتے ہیں۔ اس طرح کرنے سے تمام افراد کے دل میں ایک دوسرے کے لیے خلوص، انسیت اور قربت پیدا ہوتی ہے ۔
مگر اب چوں کہ زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے اور ہمارے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت نہیں ہے تو دسترخوان کی روایت ناپید ہوتی جا رہی ہے ۔ گھر کے کسی فرد کے پاس وقت نہیں کہ وہ سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکے۔ ہم جتنا مصروف ہوتے جارہے ہیں ، اتنا ہی گھر والوں سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ روز بروز بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ہمارے آس پاس تقریباً تمام لوگ بیماری کی وجہ سے پریشان ہیں ۔ کسی کو بہت بھوک لگتی ہے ، کسی کو لگتی ہی نہیں ، کسی کو کینسر ہے، کسی کو شوگر ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اسی ضمن میں ایک واقعہ درج کرتی چلوں ۔
چند صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا:
یارسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہم کھانا کھاتے ہیں مگر ہمارا پیٹ نہیں بھرتا ۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پوچھا:
"شاید تم لوگ علیحدہ علیحدہ کھانا کھاتے ہو؟"
انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " تم لوگ ایک جگہ جمع ہو کر اور اللہ کا نام لے کر کھانا کھایا کرو، تمہارے کھانے میں برکت ہو گی" (سنن ابی داؤد ۔3766).
المیہ صرف یہی نہیں کہ ہمارے پاس گھر والوں کے ساتھ کھانے کا وقت نہیں ، ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے دسترخوان غریبوں اور حقداروں کے لیے نہایت چھوٹے ہوتے جارہے ہیں ۔ہم شکوہ کرتے ہیں کہ ملک میں جرائم بہت بڑھ گئے ہیں، ہمارے مال میں برکت نہیں ہے ، ہمارے وقت میں برکت نہیں ہے ۔ اس سب کی یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنا ہاتھ غریبوں اور حقداروں سے کھینچ لیا ہے اور ہم اپنا فرض ادا نہیں کر رہے ۔ اگر ہم اسی طرح اس فرض سے غفلت برتتے رہے تو مسائل مزید بڑھیں گے کیونکہ
رنگینیاں ہیں فقط شکم سیر کے لے
فاقہ زدہ کو چاند بھی روٹی دکھائی دے