سطوت جہاں آراء

ایک وقت تھا جب ہمارے گھر میں بھی روزانہ اس پہ غور کیا جا تا تھا کہ آج کیا پکنا چاہیے !یہ غور بسا اوقات اچھی خاصی بحث میں تبدیل ہوجاتا تھا، ہماری اماں جان  دوسری بہت سی سمجھ دار خواتین کی طرح اس بات کا پوار پورا اہتمام کیا کرتی تھیں کہ ان پہ بات نہ آئے  ۔ اس لیے ابا سے کہہ دیتیں: " کچھ پکانے کو لا دیجیے !" وہ جب پوچھا کرتے:" کیا لاؤں ؟"تو امی بجائے اپنی رائے دینے کے کبھی تو یہ  کہہ دیتیں " جو

سب کھالیں وہ لادیجیے ۔" اور ابا اگر یہ کہتے : " ارے بھئی تم ہی بتا دو سب کیا کھائیں گے ۔

" تو اماں جھٹ سے کہہ دیتیں :" ان ہی سے پوچھ لیجیے ، میں تو سب کچھ کھا لیتی ہوں ۔" اور  کبھی  یہ بتانے لگتیں کہ فلاں کو ، فلاں چیز پسند نہیں ، اور فلاں کو فلاں چیز ۔ ہمیں یاد نہیں انہوں نے کبھی خود بتایا ہو کہ فلاں سبزی لادیجیے ، گوشت لادیجیے ، پکانے کا وقت گزر رہا ہوتا تو ابا اپنی مرضی سے کچھ لا دیتے  تو پھر رائے ضرور دیتیں : "ارے آپ بھنڈی لے آئے حالاں کہ آپ کے لاڈلے کو بھنڈی ذرا بھی پسند نہیں ، اس کے لیے کچھ اور پکانا پڑے گا " ابا کریلے لے آتے تو  کہتیں " کریلے اتنا وقت لیتے ہیں ، یہی دیکھ لیتے کہ مغرب ہو چلی ہے ۔ کتنا وقت لگے گا "توری لے آتے ، جھٹ سے تیار ہوجاتی ہیں ۔ " ۔ تو بھئی یہ بات پہلے نہیں کہہ سکتی تھیں ؟" ایک دن ابا توری لے آئے کہنے لگیں "۔ اوہو توری اٹھالائے ۔ میرا تو دل ہی اٹھ گیا ہے توری سے " میں بول پڑی :"مگر اماں آپ تو کہہ رہی تھیں سب کچھ کھا لیتی ہیں ۔ "اماں جھٹ سے کہنے لگیں : " تو کچھ غلط کہا تھا کیا ! جب توری بنے گی گی تو کھا ہی  لوں گی تمھاری طرح نخرے تھوڑاہی کروں گی" ٭٭٭٭ہمارے ماموں کینیڈا سے آئے ہوئے تھے ۔ ہفتہ بھر انہوں نے یہ مناظر اور ابا اماں کی  نوک جھونک سنیں تو ایک دن ہم سب کو بلا لیا ۔ اور چھوٹی سے کہا ، کاپی یا تین چار صاف کاغذ لے آؤ"۔ چھوٹی کلپ بورڈ پر تین چار کاغذ اور قلم لے آئی ۔ماموں نے  کلپ بورڈ مجھے تھما دیا  اور کہا: "سبزیوں کے نام لکھو ۔" میں نے کلپ بورڈ سنبھال لیا اور کہا :" جی لکھوائیں " ماموں نے پہلے تو مجھے گھور کر دیکھا، جس کا مطلب تھا : " اتنی بڑی ہو گئی ہو اور تمہیں سبزیوں کے نام بھی یاد نہیں "  اور پھر نام لکھوانا شروع کردیے : ماموں روانی سے نام بولتے جا رہے تھے اور چھوٹی حیرت سے منہ تک رہی تھی ،پھر اس سے رہا نہ گیا اور کہا :" ماموں آپ کینیڈا میں سبزی کا ٹھیلاتو نہیں لگاتے؟ " ماموں نے زور دار قہقہہ لگایا اور کہنے لگے ۔ سبزیوں کے ساتھ دالیں بھی بیچتا ہوں ۔اب کلپ بورڈ چھوٹی کو تھمایا اور دالوں کے نام لکھوانے لگے  ۔

دالوں کی فہرست میں چاول اور دلیا بھی لکھوایا،  پھر ماموں نے گوشت کی اقسام لکھیں اور ساتھ انڈے بھی لکھ لیا  ۔اب انہوں نے سب کی پسند ناپسند معلوم کی اور ہر ایک کے نام کے ساتھ  اس کی  پسند ، ناپسند الگ الگ کالم میں درج کرلیں  ۔ پھر انہوں نے  مہینے بھر کے لیے چارٹ تیار کیا ،یکم سے اکتیس تاریخ تک۔ تاریخ کے ساتھ  دنوں کے نام بھی لکھے اور ایسی مہارت سے  ہر روز کے لیے تجویز لکھی  کہ اکتیس دن کے لیے تجویز کرنے کے باوجود  بہت سے نام بچ گئے ۔  ماموں نے مجھے اور چھوٹی سے کہا :"تم لوگ ہر مہینا ختم ہونے سے پہلے اگلے مہینے کے لیے نیا چارٹ تیار کر لیا کرو ، ان ناموں کی مدد سے کئی نئی ڈشیں تیار ہوسکتی ہیں۔ روز روز کی سوچ اور بحث سے بچنے کا یہی طریقہ ہے ۔ موسم کے مطابق  چارٹ میں سبزیاں تبدیل کی جاسکتی ہیں ۔ اور دوسری ڈشیں بھی ۔  سبزیوں کے ساتھ گوشت کا امتزاج  کچھ تو میں نے بنا دیا ، ذرا سی توجہ سے اور کئی اچھے ذائقے بن سکتے ہیں ۔ پھر انہوں نے امی سے کہا : "باجی  میرےبنائے گئے چارٹ   میں کھانے کی  بیسیوں اقسام بن گئی  ہیں لیکن یہ بجٹ پر اثر انداز نہیں ہوں گی ۔  آپ کے ہاتھ میں اللہ نے ذائقہ بہت اچھا رکھا ہے ۔ آپ یہ ذائقہ  ان لوگوں میں (ہماری طرف اشارہ ) منتقل کیجیے !  جب یہ خود پکائیں گی تو  شوق سے کھائیں گی ۔ کئی سال ہو گئے ہیں ۔ ہم  ہر مہینے کی آخری تاریخوں میں نیا چارٹ تیار کر کے باورچی خانے میں  بھی لگا دیتے ہیں اور اماں ابا کے کمرے میں دروازے کے پیچھے بھی ۔ اللہ کا بڑا شکر اور ماموں کا بہت شکریہ۔ اب  ہمارے گھر میں یہ بحث نہیں ہوتی نہ اس میں کوئی تناؤ جھگڑا ہوتا ہے ۔ ہر ایک کو پتا ہوتا ہے کہ کیا پکے گا ،اگر اس کی پسند کی چیز نہیں ہوتی تو یا وہ ذہنی طور پر تیار ہو جاتا ہے یا  پھراپنے لیے تھوڑی سی محنت کر کے کچھ بنا  بنوا لیتا ہے ویسے ایسا موقع شاذ و نادر ہی آتا ہے۔ ایک تو ہم پہلے  اس چارٹ پر اور پھر پکاتے وقت  اتنی محنت کر تے ہیں کہ عام سے نام والی چیز بھی بہت اچھی بن جاتی ہے ۔دوسرا یہ بھی حقیقت ہے کہ  اچانک دسترخوان پر ایسی چیز سامنے آئے جو پسند نہ ہو ،تو ذوق کو ٹھیس پہنچتی ہے لیکن پہلے سے پتا ہو تو ذہن اور معدہ دونوں تیار ہوجاتے ہیں ۔ آپ بھی چارٹ والا تجربہ کیجیے جھنجھٹ ختم ہو جائے گا۔