ہم لڑکیوں کو لگتا ہے کہ شادی کوئی جادو کی چھڑی ہے اسے گھماتے ہی ہمارے سارے مسائل حل ہوجائے گےاور ہماری زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی ایسا فلموں اور ڈراموں میں تو ممکن ہے مگر حقیقی زندگی اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے شادی ایثار اور قربانی کا دوسرا نام ہے گھر آباد کرنے اور گھر بنانے کے لیے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہے

 زویا علی

حریم نے عصر کی نماز کا  سلام پھیرا تو اس کی والدہ اسے ہی محبت پاش نظروں سے دیکھ رہی تھی، ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا اکثر اسے دیکھتے دیکھتے وہ نہ جانے کن خیالوں میں کھو جاتی تھی اور ہمیشہ اس کے پوچھنے پر ٹال دیتی تھیں۔ سلیم صاحب کی اولاد میں حریم کا پہلا نمبر تھا اس کے بعد ایک بھائی اور تین بہنیں تھیں

،بچپن میں ایک حادثے کی وجہ سے حریم کی بائیں ٹانگ بری طرح متاثر ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اس کی چال میں معمولی لنگڑاہٹ تھی۔حریم گھر کی لاڈلی تھی بچپن سے اسے غیر معمولی محبت اور توجہ ملی ،ہر ناز نخرہ اٹھایا گیا  یہ غیرمعمولی توجہ اور محبت اس محرومی کا ازالہ بھی تھی جو لوگوں کی جانب سے حریم کو ملی، اسکول کالج میں بچے اس کا مذاق اڑاتے، خاندان محلے کی عورتیں اسے ترس بھری نگاہوں سے دیکھتیں اور اس سے ہمدردی جتا کے اسے اس کی محرومی کا احساس دلاتیں کہ اس میں نقص ہے،سلیم صاحب پہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ حریم کی والدہ کا اصرار بڑھتا جا رہا تھا کہ حریم کی شادی ہو جانی چاہیے کہ اس کی ہم جولیاں اور ہم عمر کزنیں نہ صرف اپنے گھر کی ہو گئی تھیں بلکہ کچھ کے تو بچے بھی تھے۔مگر۔۔۔۔۔

 سلیم صاحب کو بہت سے اندیشے لاحق تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ اپنے معیار کے ترازو میں ان کی بیٹی کو تولیں ،اسے اس کے عیب کا احساس دلا کر رنجیدہ کریں ۔کئی مناسب رشتے بھی آئے مگر سلیم صاحب اپنی بیٹی کو سسرال کی ذمہ داریوں میں نہیں الجھانا چاہتے تھے, وہ چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی ہمیشہ ان کی نظروں کے سامنے رہے وہ یونہی اس کے ناز نخرے اٹھاتے رہے انہوں نے اسے بالکل ہتھیلی کا چھالا بنا کے رکھا ہوا تھا گھر کے سبھی کام اس کی ماں اور بہنیں کرتی تھیں ،گھر کی کوئی ذمہ داری  اس پرنہیں ڈالی گئی تھی کہ کہیں اسے یہ احساس نہ ہو کہ وہ باقیوں کے مقابلے کام میں طاق نہیں ہے۔وقت یوں ہی گزرتا رہا، اس دوران میں  سلیم صاحب کی تیسرے نمبر کی بیٹی رابی  کی شادی ایک معزز اور شریف گھرانے میں کر دی گئی۔ سلیم صاحب کو وقت نے مہلت نہ دی اور وہ  بیٹی کے فرائض سے سبکدوش ہونے کے کچھ ماہ بعد ہی  انتقال کر گئے۔

٭٭٭٭٭

والد کے انتقال کے بعد حریم بےحد اکیلی ہو گئی تھی وہ بہن بھائی جو والد کی وجہ سے اس کے آگے پیچھے پھرتے تھے اس کا خیال کرتے تھے اپنی اپنی دنیا  میں مگن ہو کر اس کو فراموش کر چکے تھے وہ زائد سامان کی طرح گھر کے کونے میں پڑی رہتی تھی۔ہنسنا بولنا اپنا خیال کرنا ان سب چیزوں سے وہ دستبردار ہو چکی تھی، اسے اپنا وجود ناکارہ اور بوجھ لگتا تھا، وقت کی برق رفتاری نے اس کے حسن کو گہنا دیا تھا عمر ڈھلنے کی وجہ سے اس کے رشتے بھی آنا بند ہو چکے تھے کچھ لوگوں کو بھی لگتا تھا کہ حریم کے گھر والے اسے بیاہنا نہیں چاہتےتو ہم رشتہ لے جا کے کیوں اپنی بےعزتی کروائیں

تنہائی اور یاسیت نے حریم کے دل و دماغ میں گھر کر لیا تھا، جس کی وجہ سے وہ بہت چڑچڑی رہنے لگی تھی، ذرا ذرا سی باتوں پہ وہ آپے سے باہر ہو جاتی ،گھر والوں سے لڑتی جھگڑتی چیزوں کو توڑ پھوڑ کرتی، گھر والے اس کے رویے سے عاجز

آتے جارہے تھے اسی دوران میں اس کی بہن زارا کسی لڑکے کو پسند کرنے لگی اور گھر والوں نے حریم سے چھپ چھپا کےاس کی سادگی سے رخصتی کردی کہ مبادا حریم کوئی ہنگامہ نہ برپا کرے اسے یہ کہہ کر ٹال دیا گیا تھا کہ بہن اعلی تعلیم کےلیے ہاسٹل شفٹ ہوگئی ہے اب کبھی کبھی ملنے آیا کرے گی ۔

حریم اپنی بہن رابی کو اپنے بچوں سے اٹھکیلیاں کرتی دیکھتی تو اس کے دل میں بھی ہوک اٹھتی کے کاش اس کی بھی بروقت شادی ہو گئی ہوتی اس کے بھی بچے ہوتےجو اسے ماں کہہ کر پکارتے اس کے ادھورے وجود کو مکمل کر دیتے..

وہ گھر والوں سے اسی بات پر جھگڑتی کہ ابھی بھی اس کی عمر زیادہ نہیں ہوئی، چالیس کے پیٹے میں ہے کوئی مناسب رشتہ دیکھ کے اسے رخصت کر دیں۔

٭٭٭

گھر میں چھوٹی بہن انزلہ کی شادی کی بات چل رہی تھی کہ کہیں مناسب رشتہ دیکھ کے اس کی شادی کر دی جائے نہیں تو اس کی بھی عمر نکل جائے گی اور کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جائے گا لیکن حریم کے رہتے انزلہ کی شادی ناممکنات میں سے ایک تھی۔گھر والوں نے حریم سے جان چھڑانے اور معاملات خوش اسلوبی سے نمٹانے کے لیے اس کی شادی کی کوششیں تیز کر دیں تاکہ انزلہ کو  زارا کی طرح چھپ چھپا کے رخصت کرنے کی بجائے دھوم دھام سے رخصت کریں آخر کو وہ گھرکی آخری بیٹی تھی

حریم کی بہن زارہ نے اپنے طور پر اس کا رشتہ گھر والوں کے علم میں لاے بنا ہی گھر کے باہر طے کردیا اور گھر والوں کو

خوب اچھی طرح تسلی دی کہ آپ کو مایوسی نہیں ہو گی، میں نے بہت اچھی جگہ اپنی بہن کا رشتہ ڈھونڈا ہےگھر والے جو حریم کے رویے سے عاجز آچکے تھے اور جلد سے جلد اسے رخصت کر دینا چاہتے تھے فورا حامی بھر لی ادھر حریم کے دل میں شادیانے بج رہے تھے کہ اب اس کی بھی شادی ہو جائے گی ،اسے ایک چاہنے والے سراہنے والےخوبصورت شخص کا ساتھ میسر آجائے گا ،جو اس کی زندگی کو خوشیوں اور روشنیوں سے بھر دے گا ۔اب اس کی زندگی میں بھی صرف اجالا ہوگا محبت اس کے گرد رقص کریں گی اب کوئی دکھ تکلیف تنہائی کا گزر نہیں ہوگا۔

ایک طویل عرصے کے بعد حریم کے قہقہے پورےگھر میں گونج رہے تھے اس کی چہچہاٹ پورے گھر کے سناٹے کو توڑ رہی تھی ۔مستقبل کے سنہرے خواب بنتے بنتے نکاح کا دن آن پہنچا حریم نے اپنے سارے ارمان بڑے چاؤ سے پورے کیے لال رنگ کےغرارے میں دمکتے چہرے سے یوں لگتا تھا کہ چاند زمین پر اتر آیا ہو۔نکاح کے وقت جب دولہا بارات لے کر آیا سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں زبانیں گنگ ہوگئیں۔ وہ کوئی ساٹھ پینسٹھ سال کاادھیڑ عمر شخص تھا ، جس کی  چال میں لڑکھڑاہٹ بھی واضح تھی۔

یہ بات جب حریم پر عیاں ہوئی تو گویا اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی ذہن ماؤف ہو گیا لیکن پھر تمام تر ہمت یکجا کرکے اس نے اس رشتے کو قبول کرنے میں ہی عافیت جانی کہ جو لوگ اس کی معذوری کا مذاق اڑاتے تھے اس کی شادی نہ ہونے پرپھبتیاں کستے تھے، ان کے ہاتھ ایک اور موضوع لگ جائے گا اس پر جملے کسنے کا .....بھائی اور اماں کے انکار کے باوجود اس نے اس رشتے کی حامی بھری اور رخصت ہو گئی شادی کے بعد اس پہ مزید حقیقت عیاں ہوئی کہ اس کا شوہر پانچ جوان بچیوں کا باپ ہے ،نشے کا عادی ہے، پہلی بیوی کو بھی نشہ کرکے مارتا پیٹتا تھا ۔ ایک   روزمعمولی سی  بات پر اس نے  بیوی کو بے تحاشا مارا پیٹا، جس کی وجہ سے وہ جان کی بازی ہار گئی۔

حریم واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا کیوں کہ  اماں اور بھائی نے نکاح کے وقت بہترے سمجھایا  تھاکہ انکار کر دو ہم نے زارا پہ اندھااعتماد کرکے فاش غلطی کردی ہے مگر ان کے انکار کے باوجود حریم نے اس رشتے کی حامی بھری اور بھائی اور اماں نےاس سے اور زارہ دونوں سے قطع تعلقی کرلیا کہ تم دونوں کی وجہ سے خاندان بھر میں ہماری بہت بدنامی ہوئی ہے

حریم نے ہرچند کوشش کی کہ رشتہ نبھا سکے شوہر کی بد زبانی اور بد کلامی سہی، اس کی ماریں کھائیں لیکن وقت کے

ساتھ ساتھ اس کے شوہر کا رویہ اس کے ساتھ بد سے بد تر ہوتا چلا گیا اور آخر وہ اس کو بری طرح مارتا اس کی کردار کشی کرتا گھر میں تالا لگا کے اسے بند کر کے رکھتا۔

تقریبا ایک سال یہ سلسلہ یوں ہی  چلتا رہا ،پھر حریم نے اپنے گھر والوں سے معافی تلافی کر کے ان سے التجا کی کہ وہ اسے اس قید خانے سے نجات دلا دیں اور بالاخر اس نے خلع حاصل کرلی، اپنے آپ کو مصروف رکھنے اور اس حادثے کو بھولنے کے لیےاس نے جاب شروع کر دی ۔اسے سمجھ آچکا تھا کہ شادی زندگی کا حصہ ضرور ہے زندگی کا مقصد نہیں ہے۔ آپ کی شادی نہیں ہو رہی یا آپ کے نصیب میں شادی نہیں لکھی تو اسے اپنے اعصاب پہ سوار نہ کریں بلکہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتےہوئے معاشرے کا کارآمد فرد بنا جائے مقدر میں جب جس وقت لکھا ہوگا شادی ہو جائے گی۔ نہ وقت سے پہلے نہ تقدیر سے زیادہ کسی کو کچھ ملتا ہے

بڑی بڑی ہستیاں گزری ہے تاریخ میں جن کے نصیب میں شادی نہیں لکھی تھی انہوں نے اسے اپنی کمزوری بنانے اور ڈپریشن میں جانے کے بجائے اپنے وقت کو مثبت کاموں میں ملک و قوم کی خدمت میں صرف کیا جس کی مثال میں سرفہرست مادرملت، امام ابن تیمیہ اور دیگر عظیم ہستیاں ہیں

ہم لڑکیوں کو لگتا ہے کہ شادی کوئی جادو کی چھڑی ہے اسے گھماتے ہی ہمارے سارے مسائل حل ہوجائیں  گےاور

ہماری زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی، ایسا فلموں اور ڈراموں میں تو ممکن ہے مگر حقیقی زندگی اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے شادی ایثار اور قربانی کا دوسرا نام ہے گھر آباد کرنے اور گھر بنانے کے لیے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہے نئے ماحول میں نئے گھر میں اپنی جگہ بنانے کے لیے بہت صبر اور برداشت سے کام لینا پڑتا ہے اسی لیے مسائل سے بھاگنے کی بجائےمسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جب تک آپ کی شادی نہیں ہو رہی آپ کے پاس وقت اور فراغت ہے تو اسے بہتر اور مثبت کاموں مین صرف کیجیے۔ زندگی بڑی خوبصورت ہے اس کا سفر بھی خوبصورتی سے طے کیا جائےتو اپنے لیے اور دوسروں کے لیے زحمت کی بجائےایک خوبصورت یاد بن جائے   جسے لوگ ہمیشہ اپنی دعاوں اور محبتوں میں یاد رکھیں گے۔