''پتا ہے ہماری زندگی اسی دودھ  کی مانند سفید، شفاف اور بے داغ ہوتی ہے ،اور پھر ہم جب مغربی تہذیب کے ٹی بیگ اپنے اندر ڈالتے ہیں نا تو گناہوں سے پاک دودھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سہیمہ احمد ۔ڈی آئی خان

 وہ آئینے کے عکس میں اپنےبنائے گئے ہیر اسٹائل کو ہر زاویے سے دیکھتی اور پھر بالوں کو کھول کر اگلا اسٹائل بنانے لگتی،اب کی بار میں اس نے اسٹائل بنانے کی خاطر ساتھ پڑی قینچی سے کچھ بالوں کوکاٹ ڈالا جو اسٹائل میں رکاوٹ بن رہے تھے ۔

''ارمین! بالوں کا کاٹنا گناہ ہے یار'' اس کی پشت کی جانب بیٹھی اسکی دوست جو اسکی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہی تھی اسکے یوں سر عام گناہ کرنے پر اسے تنبیہ کی ۔

''گناہ ہے بالوں کا کاٹنا۔۔۔۔؟؟ حیرت سے اسکی آنکھيں پھیل چکی تھیں۔

''ہاں تو تمہیں نہيں پتا  ۔۔؟

''نہيں تو !بہرحال میری بھولی دوست ساری دنیا کاٹتی ہے اور اس مییں ایسی کیا انوکھی بات ہے ؟''اور اب وہ پھر ایک نیا اسٹائل بنانے میں مصروف ہو گئی تھی ۔

دیکھو،اب اگر ساری دنیا کنويں میں چھلانگ لگائے گی تو تمھارا کیا ارادہ تم بھی لگاؤ گی؟؟

''تم پتا نہیں کس دنیا میں رہتی ہو؟؟ٹی شرٹ نہ پہنو،برقعہ اوڑھو،گانے نہ سنو ۔۔اور اب نئی بات کہ بال کاٹنا بھی گناہ ہے ۔۔۔واہ۔۔یار یہ کیا دقیانوسی سوچ ہے تمہاری ؟ دنیا چاند پہ جا پہنچی ہے اور تم ابھی تک پتھروں کے زمانے ميں رہ رہی ہو۔ایک ہی سانس میں اسنے اتنی لمبی تقریر جھاڑ دی تھی ۔

''کفار کی کامیابی اسی میں ہے کے وہ آگے بڑھتےجائیں اور آگے بڑھتے جائيں،اور پتا ہماری کامیابی کس میں ہے ؟

اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا

''ہاں وہ آگے بڑھتے جائيں اورہم پیچھے کی طرف دوڑيں ہنا، اب تم یہ بھی کہہ دو''

اس کے لہجے میں کس     قدر طنز کی آميزش تھی ۔

''بالکل صحیح کہا۔۔ ہم ان کے ساتھ دوڑنے کی بجائےپیچھے کی طرف دوڑيں یہاں تک کہ صحابہ کرام رضی الللہ عنہ کی صفوں ميں جا کھڑيں اور اپنی زندگی کو ان کے طوراطوار میں ڈھاليں ''اسنے نرمی سے اسے سمجھایا

اور وہ جو تم کہہ رہی تھی نا کہ پتھروں کے دور سے نکل آؤ،تمھيں پتا ہے پتھروں کے دور سے تو ہم اس وقت ہی نکل آئے تھے جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تھی ،اور پورے عرب و عجم کو پتھروں کو خدا ماننے نا صرف انکار کیا بلکہ انھیں پتھروں سے پاک بھی کیا ''۔اسکے لہجے میں اب بھی وہی مٹھاس تھی ۔

''کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں''

 وہ بڑبڑائی   

  ''یعنی بس وہی نا تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں بال نہ کاٹوں ''

''صرف بال نہیں بللکہ ہر وہ کام جس کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہو ''

''کچھ نہیں ہوتا اتنا گہرائی میں نہ سوچا کرو ،اور ویسے بھی یہ ٹرینڈ بن چکا ہے''

''موجودہ دور میں ہر گناہ کا دوسرا نام ٹرینڈ ہے '' اس نے ہلکی آواز میں ہی بہت گہری بات کی تھی ۔

''آؤ چائےپیتے ہیں''اس کی بات کا جواب دیے بغیر وہ اسےہاتھ سے پکڑتی کچن میں لے آئی تھی ۔

اور اب وہ معمول کی باتیں کرتے دودھ ابالنے لگی تھی ،اسنے ٹی بیگ اسکی طرف بڑھایا اور خود گرم دودھ میں ڈالنے لگی۔

''ادھر آؤ!میں تمھيں ایک چیز دکھاؤں ۔۔ٹی بیگ ہاتھ ميں پکڑے اس نے ارمين کو بلایا ۔

''یہ دیکھو یہ دودھ کتنا سفید اور شفاف ہے ''اور پھر اگلے لمحے میں اسنے ٹی بیگ دودھ ميں ڈال دیا ۔

چائے آہستہ آہستہ اپنا رنگ چھوڑ رہی تھی اور کچھ ہی لمحوں کے بعد وہ شفاف دودھ کالی چائےکی شکل اختیار چکا تھا ۔

'' ہاں تو کیا کروں پیو ں  نہ چائے ''اس نے حیرت سے کہا

''پتا ہے ہماری زندگی اسی دودھ  کی مانند سفید، شفاف اور بے داغ ہوتی ہے ،اور پھر ہم جب مغربی تہذیب کے ٹی بیگ اپنے اندر ڈالتے ہیں نا تو گناہوں سے پاک دودھ کی طرح سفید زندگی کفار کے ٹرینڈ اور فحاشی و بے حیائی سے کالی چاۓ کی شکل اختیار کر لیتی ہے'' اسنے ایک گہری سانس لی اور پھر بول اٹھی

''سب چائے کو مضرسمجھتے ہیں ،اچھی طرح جانتے ہیں کے یہ ہماری صحت کے لیے کتنی نقصان دہ ہےپھر بھی ہم اس کا استعمال کرتے ہیں پتا ہے کیوں ؟

 تجسس پیدا کرنے کے لیے اسنے اس سے سوال کیا ، ارمین کی آنکھوں ميں حیرانگی کے گہرے ساۓ تھے ۔ 

کیوں؟

''کیوں کہ یہ ٹرینڈ بن چکا ہے۔۔۔چاۓ پینے کے عادی انسان کو اس کے مضر اثرات نظر نہيں آتے ۔اس طرح گناہ کرتے کرتے نا ہی اس انسان کو اس کے مضر اثرات نظر آتے ہیں اور نہ ہی گناہ گناہ لگتاہے ۔۔۔۔۔۔ گناہ گناہ نہ سمجھنا بندے کو کفر کے نزدیک کردیتا ہے

لوہے کو پگھلتا دیکھ کر اسنے ضرب لگائی ۔

مغرب نے اپنی تہذیب کو اتنا ابھارا اور اتنا دکھایا کہ پھر ہم گناہ کو حرام تک سمجھنا بھول گئے۔۔۔۔آگے بڑھنے کی ہوس نے اور فیشن کی ایک ہوس نے حلال حرام کے درمیان فرق کرنا بھلا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بولتی جا رہی تھی اور الفاظ بارش کی بوندوں کی طرح اسکے دل کی زمین کو زرخیز کیے جا رہے تھے ۔