اتنے تجربے کے بعد مجھے یہ اندازہ تو ہو گیا ہے کہ ایسی جگہوں پر پانی کے علاوہ سب کچھ موجود ہوتا ہے ۔ اس لیے میں اب پانی ہمراہ رکھتی ہوں
سمیہ شاہد لاہور
بے ہنگم ناچ گانے سے گھبرا کر اس نے ایک کونے میں پناہ لے لی۔ تیز موسیقی اور اس پر اچھل کود فضا کو شدید کوفت میں مبتلا کر رہی تھی۔وہ اس وقت کو کوسنے لگی، جب اس نے وہاں آنے کی حامی بھری تھی، تاہم اب پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا تھا۔ اس نے نیم اندھیرے میں کونے والی میز پر بیٹھ کر موبائل نکالا اور سالار کو کال ملانے لگی۔ لیکن سالار کو موبائل کا ہوش کہاں تھا۔ ایسی دعوتیں، پارٹیاں تو اسے بے حد عزیز تھیں ، اور ان میں موجود لوازمات بھی ، جن تک رسائی عام دنوں میں ناممکن تھی۔
سالار کی بہ نسبت فضہ کو ایسی پارٹیاں بالکل پسند نہ تھیں۔ شادی کے شروع میں اس نے سالار سے کافی بار کہا کہ اسے ان جگہوں پر جانے کے لیے مجبور نہ کرے ، تاہم ہر بار سالار اسے کسی نہ کسی طرح منا ہی لیتا۔
اس دفعہ بھی ایسے ہی ہوا۔ فضہ کے کئی بار منع کرنے کے باوجود وہ اسے اس جگہ لانے میں کامیاب ہو ہی گیا !!
" آ پ اکیلی ہیں ؟ میں بیٹھ جاؤں ؟" فضہ ابھی یہی کچھ سوچ رہی تھی کہ اس کے کانوں میں ایک آ واز آئی ۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک 35-40 سال کی نفیس خاتون نظر آ ئیں۔ "جی !ضرور۔" فضہ نے بادل نخواستہ انہیں اجازت دے دی۔ " مجھے ایسی پارٹیوں میں آ کر شدید کوفت ہوتی ہے ۔" وہ خاتون بے زاری سے بولیں۔ " میری بھی کچھ ایسی ہی کیفیت ہے ۔" فضہ کہنے لگی۔
" آ پ کا نام جان سکتی ہوں ؟" فضہ نے پوچھا۔ " جی ضرور ! مجھے بلقیس کہتے ہیں ۔ اور آ پ ؟ " "میرا نام فضہ ہے ۔" فضہ نے کہا۔ " صحیح صحیح۔۔۔ تو فضہ ! آ پ یہاں یقیناً اپنے شوہر کے اصرار پر آ ئی ہوں گی !! اور وہ اپنی رنگ رلیوں میں مصروف ہوں گے ۔" " آ پ کو کیسے پتا ؟" فضہ حیرت سے بولی۔ " کیونکہ میں بھی اس فیز سے گزر چکی ہوں " وہ اداسی سے بولیں۔ " کیا آ پ مجھ سے کچھ شئر کریں گی ؟ " فضہ نے پوچھا۔ " جی ضرور !!! میری شادی کو تقریباً 8 سال ہو گئے ہیں اور ان 8 سالوں میں بے شمار پارٹیوں میں جا چکی ہوں ۔ جس جگہ بھی جاؤ صرف چہروں کا فرق ہوتا ہے ۔۔۔ وہاں کا ماحول، لوگوں کا رویہ ، سب ایک جیسا !!!! شروع میں بہت دفعہ انکار کیا ، لیکن کبھی پیار، کبھی دھمکی ، کبھی لاڈ ، کبھی ڈانٹ کے بعد میں ایسی فضول جگہوں پر موجود ہوتی ہوں ! " یہ کہہ کر وہ رکیں اور پرس میں سے بوتل نکال کر پانی پینے لگیں۔ فضہ انہیں سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔ " اتنے تجربے کے بعد مجھے یہ اندازہ تو ہو گیا ہے کہ ایسی جگہوں پر پانی کے علاوہ سب کچھ موجود ہوتا ہے ۔ اس لیے میں اب پانی ہمراہ رکھتی یوں۔ " بلقیس افسردگی سے بولیں۔ " فضا ! کیا آ پ یہ محسوس نہیں کرتیں کہ ایسے ماحول میں انسان اپنا کنٹرول کھونے لگتا ہے ۔۔۔ اور انسانیت کے درجے سے گرنے لگتا ہے۔" وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولیں۔ " جی ہاں محسوس تو کرتی ہوں ، لیکن۔۔۔۔۔" فضہ یکدم خاموش ہو گئی۔
" لیکن کیا ؟ " بلقیس نے پوچھا۔ اس پر فضہ نے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے ان کے پیچھے دیکھا۔ بلقیس نے بھی مڑ کر دیکھا پھر کہنے لگیں ، " کوئی بات نہیں !! مجھے بھی شروع شروع میں بہت عجیب لگتا تھا لیکن اب عادت ہو گئی ہے ایسے جھومتے جھامتے اپنے شوہر کو واپس لے جانے کی۔" وہ آ نسو بھری آ نکھوں سے بولیں۔ " میرے اندر اتنا حوصلہ اور برداشت کیسے آ ئے گا۔" فضہ روتے ہوئے بولی۔ " ابھی تو تمہارا سفر شروع ہوا ہے۔ اس طبقے میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ابھی تو کافی بھیانک روپ بھی تمہارے سامنے آ ئیں گے۔" بلقیس اسے سمجھاتے ہوئے بولیں۔
" لیکن کیا ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم اپنی مرضی کر سکیں۔" فضہ بولی۔ "ہے !! ضرور ہے لیکن ہمیں اس حق کے بارے میں آ گاہی حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ " بلقیس بولیں۔ " تو 8 مارچ کس لیے ہے ؟؟ کیا اس مارچ میں ہمارے حقوق کی گونج نہیں ہو سکتی ؟ " فضہ بولی۔ " ہر گز نہیں فضا !" بلقیس حتمی لہجے میں بولیں۔ "وہ کیوں ؟ کیا میں عورت نہیں ، کیاآپ عورت نہیں !!" وہ غصے میں بولی۔ " وہ اس لیے کیونکہ وہ مارچ عورت کو سربازار لانے کے لیے، اس کو اپنی اقدار سے دور کرنے کے لیے، اس کو اپنی فطرت سے بغاوت کرنے کے لیے کروایا جاتا ہے۔ جو عورت کے اصل حقوق ہیں وہ تو خدا پہلے ہی بتا چکا لیکن ۔۔۔۔۔۔آہ ! ہم چاہنے کے باوجود کچھ نہیں کر سکتے ، کیونکہ ہمارے دماغ، ہمارے ذہن جکڑے ہوئے ہیں !" "کیا ہم واقعی کچھ نہیں کر سکتے ؟؟" فضہ بے یقینی سے بولی۔ " فضہ ! ہم صرف ایک کام کر سکتے ہیں اپنے بنانے والے سے، جس کی مرضی سے ہماراجسم بنا ، اس سے دعا اور اپنی اولاد کی اچھی تربیت۔۔۔۔اس کے علاوہ ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔" " بلقیس باجی! اس کا مطلب ہمارے اختیار میں سب کچھ ہے !!! " فضہ ایک امید بھرے لہجے سے بولی۔ اسی وقت دور کہیں عشاء کی اذانیں بلند ہوئیں اور فضہ اپنے رب سے چپکے چپکے مناجات کرنے لگی۔۔۔