حفصہ محمد فیصل

"دوسری اولاد ہونے کےفائدے کم اور نقصان زیادہ ہیں ، جیسے بڑے بھیا کو جس جس چیز سے کوئی نقصان پہنچا، وہ اب ہمیں استعمال کرنے ہی نہیں دی جائے گی، چاہے ہم کتنا ہی یقین دلا دیں کہ ہم وہ نقصان یا غلطی سرزد نہیں کریں گے ،مگر مجال ہے کہ ہماری آواز پر کوئی کان دھر لے۔" ارسلان دوستوں میں بیٹھا ،ابا سے بائیک نہ ملنے کا دکھڑا رو رہا تھا۔

٭٭٭

"سچ ! تیسری بہن ہونے کے فائدے ہی فائدے ہیں۔بڑی آپیوں سے خوب خدمتیں کرواؤ، غلطیاں کرکے ان کے سر ڈال دو، اگر ڈگری لینے کا شوق ہے تو بھی آسانی سے پڑھائی مکمل ہوسکتی ہے ، کہ جب تک بڑی بہنیں پیا دیس نہیں سدھاریں گی ہماری باری نہیں آنے والی۔" ثوبیہ اپنی خوش قسمتی پر ناز کرتی سہیلیوں کے سامنے کالر جھاڑ رہی تھی۔

٭٭٭٭

"ارسلان! کچھ اپنے بڑے بھائی سے ہی سیکھ لو، وہ پڑھائی میں ہمیشہ ہیرو رہا اور تم زیرو۔۔۔"

اباجی غصیلی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہہ رہے تھے ، اور ارسلان پھر اس موازنے سے چڑ کر کمرے سے واک آؤٹ کرگیا۔

یہ موازنہ ہمارے معاشرے کے اکثر گھرانوں کا عمومی رویہ ہے۔

ارسلان گھر بھر کا لاڈلا تھا لیکن جب سے اس نے میٹرک کے بعد آگے پڑھائی کے میدان میں قدم رکھے تھے، اسے بڑے بھیا سے ہر موڑ پر مقابلے کے لیے کھڑا کردیا جاتا، بلاشبہ بڑے بھیا ذہنی لحاظ سے ارسلان سے زیادہ ذہین تھے مگر یوں ہر جگہ ہر بات میں موازنہ اب اس کی برداشت سے باہر ہوتا جارہا تھا۔ وہ عمر کے جس دور سے گزر رہا تھا، وہاں ویسے بھی جذباتی احساسات طبیعت پر زیادہ غالب رہتے ہیں اور پھر یہ نفسیاتی مار اسے روز بروز مشتعل کررہی تھی۔ وہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا مگر گھر والے خصوصا اس کے والدین اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھے ۔اور آخر ایک دن ،ارسلان آدھی رات کو چلاتا ہوا اٹھ بیٹھا، اس کا سر درد سے پھٹا جارہا تھا اور وہ ایک ہی جملے کی گردان کررہا تھا

 " میں بڑے بھیا جیسا نہیں ہوں ،مجھے معاف کردو"

گھر والے پہلے تو اس کیفیت سے گھبرائے مگر پھر اباجی کی سخت گیر طبیعت نے ارسلان کی اس حالت کو پڑھائی سے دور بھاگنے کا ڈراما قرار دیا۔۔

ارسلان کی حالت روز بروز بگڑتی جارہی تھی وہ بیٹھے بیٹھے کھو جاتا،اکثر خود سے باتیں کرنے لگتا، اچانک مشتعل ہوکر چلانے لگتا، نیند میں سے اکثر چلا کر اٹھ بیٹھتا، مگر گھر کے افراد بے حس بنے اس کی حالت سے صرف نظر کیے ہوئے تھے۔

٭٭٭٭

میں ارسلان کا پڑوسی، دوست اور ہم راز تھا۔

مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ "

اپنے  یار اپنے دوست کے لیے کیا کروں؟"

 مجھے اس کی حالت دیکھ کر  بار بار  رونا آ جاتا تھا آخر میں نے بڑے بھیا سے بات کرنے کا سوچا ہے .کیوں کہ ارسلان کے ابو جی تو  غصے کے انتہائی تیز تھے۔

 بڑے بھیا سے  ملاقات کا وقت طے کیا،مگر بڑے بھیا جو اپنی دنیا میں مگن تھے  انہوں نے میری بات کو خاطر میں ہی نہیں لیا،مجھے حیرت ہوئی کہ کیسے ایک ماں جایا  اپنے چھوٹے بھائی کے لیے فکر مند نہیں ہو سکتا۔

اور پھر ایک دن وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ارسلان نے چوہے مار دوا پھانک لی

 اسے ایمرجنسی میں اسپتال لے جایا گیا  لیکن شومئی قسمت کہ اس کی اس حرکت کو بھی غلط رنگ دیا گیا ،پیار محبت، عشق معشوقی کا نام دے کر میرے پیارے جگری دوست کو بد نام کیا گیا۔اور یہ بدنامی عطا کرنے میں اس کے اپنے گھر والے ہی سر فہرست تھے۔

کوئی اس کے جذبات کو ، اس کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہا تھا ۔ہر کوئی اپنی اپنی ہانک رہا تھا۔ حیرت تو مجھے سب سے زیادہ اس کے والدین پر ہو رہی تھی خصوصاً آنٹی جی پر جو ایک ماں تھیں-  مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے  اپنے لاڈلےبیٹے کے لئے ایسی باتیں سن اور سوچ سکتی ہیں۔

٭٭٭٭

ارسلان کو فوری طبی امداد  ملنے کی وجہ سے بچا لیا گیا  لیکن اس وقت ایک لمحے کے لیے میں نے بھی سوچا کہ "ارسلان کا اس دنیا سے چلے جانا ہی اس کے حق میں بہتر تھا "۔پھر  مجھے اپنی ہی سوچ  پر غصہ آنے لگا کہ میں یہ اپنے دوست کے لیے کیا سوچ رہا ہوں۔

اسپتال میں  ارسلان کو دو دن رہنا تھا۔  اس دوران میں ہر وقت اس کے ساتھ رہا، وہیں میری ملاقات  ڈاکٹر ثوبیہ سے ہوئی ۔

انہوں نے اسی سال سائیکولوجی کی تعلیم مکمل کی تھی۔ اب ایک ماہر سائیکولوجسٹ کے انڈر میں رہ کر اپنی انٹرن شپ مکمل کر رہی تھیں۔

ڈاکٹر ثوبیہ کے روپ میں مجھے ایک  ایسا مسیحا نظر آیا جو میرے دوست کو زندگی کی طرف لانے میں مدد کرسکتا تھا، میں نے ڈاکٹر ثوبیہ کو ارسلان کی  مکمل کہانی سنائی ۔ڈاکٹر ثوبیہ نے وعدہ کیا کہ وہ ارسلان کے لیے حتی الامکان کوشش کریں گی اور اسے زندگی کی طرف  واپس لانے میں معاون بنیں گی۔

ڈاکٹر ثوبیہ نے ہسپتال مینجمنٹ سے کہہ کر ارسلان کی میڈیسن لسٹ میں سائیکولجسٹ کو ریفر کروایا تاکہ گھر والے اس بات پر توجہ دیں ورنہ گھر والے عموماً مریض کی ایسی کیفیت کو خاطر میں نہیں لاتے ،ویسے بھی ارسلان کے گھر والے تو کچھ زیادہ ہی لاپروا ثابت ہوئے تھے۔

پولیس کی مداخلت کی وجہ سے ابو جی بھی تھوڑا نرم پڑے تھے۔ اسی وجہ سے ارسلان کے باقاعدہ ہفتہ وار ڈاکٹر ثوبیہ سے سیشن ہونے لگے ،لانے لے جانے کی ذمے داری میں نے اٹھالی ( جو مجھے بخوشی سونپ کر اپنی گلو خلاصی کروالی گئی) میں اس معاملے میں اب کسی قسم کی غفلت نہیں چاہتا تھا۔

ڈاکٹر ثوبیہ واقعی ایک نرم خو اور اپنے پیشے سے مخلص ڈاکٹر ثابت ہوئیں ،انہوں نے چند سیشن میں ہی ارسلان کی زندگی میں بدلاؤ پیدا کردیا ۔ ارسلان کے سر درد میں اور اشتعال انگیزی میں نمایاں کمی نظر آرہی تھی۔ اب ارسلان نماز بھی پڑھنے لگا تھا۔

آج ڈاکٹر ثوبیہ نے ارسلان کے والدین کو بلوایا تھا۔

"کیا اب ہم بھی اس پاگل کے ساتھ پاگل شمار ہوں گے؟" ابو جی  ڈاکٹر ثوبیہ کے پیغام کو سن کر مشتعل ہوئے۔

" انکل جی! پولیس کیس ہے ، چلنا تو پڑے گا ،ڈاکٹر کا پیغام ہے، ورنہ وہ پولیس کی مدد بھی لے سکتی ہیں". میں نے نظریں جھکا کر ایک پتا پھینکا( دوست کی خاطر اتنا تو بنتا ہے نا)

"کب چلنا ہے؟ "انکل جی یک دم نرم پڑ گئے،اور پنیترا ہی بدل گیا۔

میں اکثر یہ سوچتا تھا کہ "کیاارسلان ان کی سگی اولاد ہے یا نہیں؟"

رویوں میں ایسا تضاد ، سمجھ میں نہیں آتا تھا۔

٭٭٭

ڈاکٹر ثوبیہ نے مہذب الفاظ میں انکل اور آنٹی کو خوب احساس دلانے کی کوشش کی کہ "ارسلان کی اس حالت کے ذمہ دار ان کے رویے ،باتیں اور وہ امیدیں جو انہوں نے زبردستی ارسلان سے باندھ لیں ،جن کے سبب ارسلان کی شخصیت مسخ ہوتی گئی۔ کاش! وہ ارسلان سے محبت والا رویہ اختیار کرکے اس کی شخصیت کے پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر اس کی صلاحیتوں کے مطابق اس سے توقعات وابستہ کرتے ، اسے حوصلہ اور اعتماد دیتے، دوسرے لوگوں سے موازنہ کرکے انہوں نے اسے روحانی اور باطنی طور پر توڑ پھوڑ دیا اور آخر کار وہ اپنی جان لینے کے درپے ہوگیا۔

ڈاکٹر ثوبیہ نے یک دم اپنے ہاتھ جوڑ دیے ، دیکھیے!  میں آپ دونوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کررہی ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے بیٹے کو نئی زندگی دی ہے ، اور آپ کو ایک اور موقع دیا ہے.خدارا! ارسلان کی شخصیت کو سمیٹنے میں اس کی مدد کیجیے اور اسے وہ اعتماد اور محبت دیجیے جس کا وہ حق دار ہے۔ورنہ ایسا نہ ہو کہ ساری زندگی کا پچھتاوا رہ جائے۔

 آپ کا بڑا بیٹا مختلف شخصیت اور صلاحیتوں کا مالک ہے۔ ارسلان کی شخصیت اس سے جدا ہے۔ آپ کے اس موازنے والے رویوں نے ایک بیٹے کو ذہنی مریض اور دوسرے بیٹے کو متکبر بنا دیا ہے۔ صحیح کہتے ہیں افراط و تفریط تباہی کا بہت بڑا سبب ہے چاہے وہ تباہی قوموں کی ہو یا خاندانوں کی۔

موازنے کی فضا اکثر بچوں کو گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے اور اس شخصی توڑ پھوڑ کا شکار بنانے والے ان کے اپنے والدین اور رشتے دار ہی ہوتے ہیں۔ نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ ڈاکٹر ثوبیہ جذباتی لہجے میں بولی۔

انکل اور آنٹی کے سر جھکے ہوئے تھے،جو اس بات کی علامت تھے کہ اصل مسئلہ ارسلان میں نہیں ان کے رویوں اور توقعات کا تھا، جو انہوں نے ارسلان کے ساتھ رواں رکھا، لیکن اب انہیں اس بات کا مداوا کرنا تھا ،اپنے بیٹے کو اس کی شخصیت کے ساتھ قبول بھی کرنا تھا اور پروان بھی چڑھانا تھا۔