ام محمد سلمان کراچی
مجھے نہیں معلوم کہ کب اور کیوں مجھے جہیز کے نام سے چڑ ہونا شروع ہوئی۔ شاید جہیز کی مذمّت میں کوئی ڈرامہ دیکھا ہو یا کوئی کہانی پڑھی ہو ۔۔۔ بس نو عمری کے زمانے سے ہی جب لڑکیاں جہیز کا نام سن سن کے خوش ہوتیں اور شرماتی تھیں، میں ان سنہرے دنوں میں بھی جہیز کے ذکر پر بدک جایا کرتی تھی اور اس کے خلاف دھواں دھار تقریر کیا کرتی۔ جہیز مجھے کسی گالی کی طرح لگتا تھا۔ پھر میری شادی طے ہوئی تو اماں نے میرے جہیز کے لیے بھی چیزیں جمع کرنا شروع کردیں۔ کاش وہ سب چیزیں میرے لیے ہوتیں ، مگر مجھے پتا تھا وہ میرے لیے نہیں ہیں بلکہ وہ دنیا کا منہ بند کرنے کے لیے ہیں تاکہ کوئی ان کی بیٹی کو جہیز نہ لانے کے طعنے نہ دے اور لوگ ان کے لیے بھی باتیں نہ بنائیں کہ بیٹی کو خالی ہاتھ رخصت کر دیا ۔ ہر چیز میں دوسروں کا معیار تولا جاتا تھا۔
میں اکثر سوچا کرتی کہ لڑکی کی قبولیت کی شرط جہیز کیوں ہے؟ اسے بغیر جہیز کے قبول کیوں نہیں کیا جاتا؟ آخر جہیز کیوں دیا جائے؟ لڑکی کی شادی بغیر جہیز کے کیوں نہیں ہو سکتی؟ ماں باپ اپنے کلیجے کا ٹکڑا بھی دیں اور ساتھ جہیز کے سامان سے بھرا ہوا ٹرک بھی دیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے!!
دلہا بڑے کروفر سے دلہن بیاہ کر جس گھر میں لاتا ہے وہاں اپنی دلہن کے لیے ایک بستر تک کا بندوست نہیں کر سکتا ۔ وہ بھی لڑکی کا باپ کر کے دے۔ پورے کمرے کا ناپ لیا جاتا ہے پھر حساب سے فرنیچر بنایا جاتا ہے۔ پھر اسے دلہا کے گھر میں سیٹ کیا جاتا ہے۔ پھر دلہن رخصتی کے بعد وہاں لائی جاتی ہے، تب دلہا حجلہ عروسی میں قوام بن کر حاضر ہوتا ہے ۔ سبحان اللہ!
شریعت نے تو لڑکی والوں پرکوئی ذمہ داری نہیں ڈالی اور مرد کو حسب حیثیت ضروری امور میں مال خرچ کرنے کا کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”مرد عورتوں پر قوام ہیں اس بناء پر کہ وہ اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔“ (سورة النساء) ۔
مگر ہند و پاک کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ مال خرچ کر کے گھر میں ضرورت کا فرنیچر لڑکے کو ڈالنا چاہیے مگر یہاں یہ فریضہ بھی لڑکی کے باپ اور بھائی ادا کرتے ہیں۔ ضرورت اور آسائش کی ایک ایک چیز مہیا کرتے ہیں۔ پھر اپنی بیٹی بھی دو بول پڑھوانے کے بعد ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔گویا زبان حال سے کہہ رہے ہوں بیٹا اتنا سامان دے دیا اب ہماری بیٹی بھی لیتے جاؤ اور ہم پر یہ احسان عظیم کر دو۔۔۔۔!
میں سوچتی ہوں اس ماڈرن بھکاری یعنی کہ دلہا کو دلہن کے پاس جاتے ہوئے شرم نہیں آتی اس کی غیرت پر کوئی تازیانہ نہیں لگتا۔ بیوی کے بیڈ پر بیٹھ کر اس کا گھونگھٹ اٹھاتے ہوئے، اسی کی ڈریسنگ ٹیبل پر بال بناتے ہوئے، اسی کی الماری میں اپنے کپڑے رکھتے ہوئے، اسی کے لائے برتنوں میں کھاتے پیتے ، اسی کی استری اور آئرن ٹیبل پر دلہن سے اپنے کپڑے استری کرواتے ہوئے اسے ذرا بھی شرم نہیں آتی۔۔۔۔!
لوگ کہیں گے ۔۔۔ تو کیا ہوا یہی تو دستور ہے ۔ اس نے بھی تو اپنی بہن کو لاکھوں کا جہیز دے کر رخصت کیا ہے تو پھر وہ کیوں نہ لے ۔ اس کا بھی تو حق بنتا ہے۔
جب دونوں طرف سے معاملہ برابر چل رہا ہے تو یہ رسم بد کیسے ختم ہو گی آخر ؟؟؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ جن کے ہاں بہن بیٹی نہیں ہے اور وہ رسم جہیز کے ڈسے ہوئے ہیں ہی نہیں، وہ بھی دھڑلے سے جہیز لیتے ہیں کیوں کہ ہمارے یہاں یہ دستور بن چکا ہے کہ دلہے والے چاہے کتنے ہی امیر کیوں نہ ہوں پھر بھی دلہن کی گھر گرہستی کی ہر ہر چیز باپ نے ہی دینی ہے۔ آخر کیوں ؟
ہم سب یہ بھیڑ چال کیوں چل رہے ہیں؟ ہمارے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں کیوں مفقود ہو گئی ہیں ؟؟
کہاں سے آتی ہے لوگو! بتاؤ رسم جہیز
خدا کے دین میں اس کا کوئی سراغ نہیں
ہونا تو یہ چاہیے کہ لڑکے کے گھر والے جب اپنے بیٹے کی شادی کریں تو اپنی بہو کا کمرہ خود سجائیں ۔ ضروت کا سامان اور فرنیچر خود مہیا کریں۔ پھر جب بیٹی کی شادی کرنے لگیں تو آگے والوں کو بھی کچھ شرم غیرت محسوس ہو کہ جب یہ اپنی بہو کے لیے خود سب کچھ کر سکتے ہیں تو ہم اپنی بہو کے لیے کیوں نہیں کر سکتے ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ لڑکی والے جہیز دینا بند کر دیں اور لڑکے والے اپنی بہو کی ضرورت کا سارا سامان خود مہیا کریں۔ اپنی بہو کا کمرہ مناسب فرنیچر سے ترتیب دیں۔ اور بہو کے گھر والوں سے سختی سے منع کر دیں کہ وہ جہیز کے نام پر کوئی چیز دینے کی کوشش نہ کریں۔ ہمارا غیرت مند بیٹا اپنی بیوی کے لیے سب کچھ کر سکتا ہے وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ جس کمرے میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہے اس میں سارا سامان بیوی کا لایا ہوا ہو۔ بیٹے کی اتنی آمدنی نہ ہو تو والدین اور بڑے بہن بھائی اس سلسلے میں اس کی مدد کریں۔ بارات اور ولیمے کے لیے لاکھوں کے بھاری بھرکم جوڑے اور میک اپ پر خرچ کرنے کی بجائے وہی پیسے دلہن کی ضرورت کے کپڑوں اور فرنیچر وغیرہ میں خرچ کر لیے جائیں۔ نکاح اور ولیمے کے بھاری جوڑے بھی اس غریب ملک کی غریب عوام پر خواہ مخواہ کا بوجھ ہیں جنھیں ایک دو دفعہ سے زیادہ کوئی پہننا بھی پسند نہیں کرتا اور لاکھوں کی جمع پونجی ان فضولیات پر ضائع کر دی جاتی ہے ۔
باقی ضرورت کا سب سامان تو گھر میں موجود ہوتا ہی ہے جیسے برتن، فریج، پنکھے، واشنگ مشین ، کچن کا سامان، استری وغیرہ ۔۔۔۔ گھر میں صرف ایک فرد کا اصافہ ہونے کی وجہ سے اتنا ڈھیروں ڈھیر سامان خریدنے کی کیا ضرورت ہے ۔ گھر میں دو چار مہمان مہینا بھر رہ کر چلے جائیں تو کبھی کسی کو فریج اور واشنگ مشین خریدتے نہیں دیکھا۔ بلکہ اسی سامان میں آرام سے گزارا ہو جاتا ہے۔ تو پھر گھر میں ایک بے چاری بہو کے اضافے سے ٹرک بھر کر سامان مانگنے کی کیا ضرورت ہے بہو کے والدین سے۔ اب کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ہم نے کب مانگا؟ لڑکی والوں نے خود ہی دیا ہے۔ تو جناب عرض ہے کہ مانگا یا نہیں مانگا وہ شادی کے بعد لڑکی کو ملنے والے طعنوں سے پتا چل جاتا ہے۔
***
ہم نے اپنے بیٹے کا شروع سے ذہن بنایا ہے کہ بیٹے کی جہاں بھی شادی کریں گے، جہیز کے نام پر کچھ نہیں لیں گے ان شاءاللہ۔ ہم اپنی بہو کے لیے اس کا کمرہ خود سجائیں گے۔ اس کی ضرورت کا ہر سامان خود مہیا کریں گے۔ کیوں کہ میں نہیں چاہتی اپنی شادی کے وقت اپنے دلہے میاں کے بارے میں جس طرح کے خیالات و جذبات میرے تھے، وہی خیالات میری بہو کے میرے بیٹے کے بارے میں ہوں ۔۔۔! ہمیں ماڈرن بھکاری نہیں بننا۔ ہم غیرت مند لوگ ہیں۔ مانگے سے مر جانا بہتر سمجھتے ہیں!!