ادھر اسکرین آن ہوتی ہے، ادھر بچوں کا منہ کھل جاتا ہے، جو مرضی جتنا مرضی ریڈی میڈ فوڈ بھر دیں، بچہ کھانا نگلتا جاتا ہے، ماں بھی اپنی ادھوری قسطیں مکمل کرلیتی ہے۔

عظمی ظفر

پہلے زمانے میں بچے یا تو ننھیال پرجاتے تھے یا ددھیال پر، فی زمانہ تو آپ کو ایسے بچے ملیں گے جو نا ننھیالی ہیں نا ددھیالی، اب تو وہ بس موبائیلے ہیں۔

اب نومولود کی گھٹی میں اسمارٹ فون ملا ہوتا ہے۔ ادھر بچے نے آنکھ کھولی کلک، کھچھک، اور سیلفیوں سے منہ دکھائی ہوجاتی ہے۔ اچھا بھلا معصوم سا گل گوتھنا، فلٹر ہو ہو کر مانو بلی کے کان موچھوں بندر، بھالو، اورطرح طرح کے جانوری شکل میں کیوٹ دکھتا ہے، اصلی شکل میں بس ایویں سا لگتا ہے۔

پہلے پہل شیر خوار الله، الله، ،،،اور لویاں سن کر سوتے تھے پھر جن بابا،،، بھو،،، اور چڑیل،، کے ڈر سے مائیں سُلانے لگیں اور اب اوّل تو بچے سوتے ہی نہیں یا پھر موبائل ہاتھ میں ہو تو اس سے کھیلتے کھیلتے سوجاتے ہیں۔

یہی حال بچوں کو کھلانے کے وقت آتا ہے، ایک معرکہ ہے جو مائیں سر انجام دیتی ہیں کہ کسی طرح بچہ کھالے۔ یہ مشکل بھی مارنگ شوز اور گوگل بابا کے مفت مشوروں کی طرح موبائل نے چٹکی بجاتے بلکہ اسکرین چھواتے ہی حل کردی ہے۔ اب ادھر اسکرین آن ہوتی ہے ادھر بچوں کا منہ کھل جاتا ہے، جو مرضی جتنا مرضی ریڈی میڈ فوڈ بھر دیں، بچہ کھانا نگلتا جاتا ہے، ماں بھی اپنی ادھوری قسطیں مکمل کرلیتی ہے۔ بعد میں بچے کو کھڑا کرکے ایک دو ٹھمکے لگوادیے جاتے ہیں ٹک ٹاک کی طرح لیں جی!!! کھانا ہضم نہ گرائپ واٹر کی ضرورت نہ ہی کسی پھکی کی۔

بچہ جیسے جیسے طفلانہ مراحل طے کرتا جاتا ہے، موبائل کو چھپا دوں گی!! اور توڑ دوں گی!! کی دھمکیاں ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ بچوں کو بھی پتا ہوتا ہے ماں خود پر آئی مصیبت تو برداشت کرسکتی ہے مگر موبائل پر آنچ نہیں آنے دے گی، کیونکہ اگر ایک بھی واٹس ایپ پڑھنے سے رہ جائے یا نیکی کے طور کوئی پوسٹ شٸیر نہ کیا تو کتنوں کا نقصان ہوجاۓ گا اور تو اور آن لائن شاپنگ، اور ایزی لوڈ والوں کا نقصان الگ ہوگا۔

پہلے جوان بچے بچیوں کی ماؤں کی نیندیں کسی اور وجہ سے اڑا کرتی تھیں اب وہ کوڈڈ اور لاک موبائل دیکھ کر ہولتی رہتی ہیں بچوں کے نت نٸے اسٹائل اتنے گھر میں نظر نہیں آتے جتنا فیس بک پر نظر آتے ہیں۔

سارے تہوار موبائل پر ہی منا لیے جاتے  ہیں۔ گھر میں لاکھ ایک دوسرے سے جنگ و جدل،، تُو تُو، مَیں مَیں چل رہی ہو مگر موبائیلی دنیا میں پیار ہی پیار نظر آتا ہے۔ لائک اور کمنٹس کی بہار ہوتی ہے، بہن بھائی ہفتوں ایک دوسرے کا منہ چاہے نہ دیکھیں، اسٹیٹس گھڑی گھڑی ضرور چیک کرتے ہیں۔

نوجوانوں کی فرمائشیں چاکلیٹ، گھڑی، کھلونے، پرفیومز، کاسمیٹیکس اور جیولریز سے ہٹ کر اب صرف نت نئے ماڈلز کے اسمارٹ فون کی ہوگئی ہیں۔ پہلے ولایتی باپ، مامے، چاچے، محبتوں کے طفیلے ہوتے تھے، اب سب ساری لگاوٹیں  موباٸیلے کے طفیلے ہیں۔

شوہر الگ موبائل میں گم، بیوی الگ مصروف، ایک ہاتھ سے کام ایک ہاتھ سے سرچنگ بائیں ہاتھ کا کھیل۔ شاید اسے ہی کہتے ہیں جہاں وائی فائی کنکشن نہ ہو اس گھر میں جانا بھی بورنگ لگتا ہے۔ پہلے کسی کے گھر رکنے جاؤ تو کزن خوش آمدید کہتے تھے اب کہتے ہیں جب آؤ تو اپنا چارجر ساتھ لانا گویا اب رشتےداری بھی تاروں سے جڑی رہ گئی ہے۔ ایک جگہ جمع ہو کر بھی سب الگ لگ دنیا میں مصروف ہیں، فقط موباٸیلے ہیں،، موباٸیلے۔