اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے کچھ کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتاتو پھر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا

روبنسن سیموئیل گل

دورانِ سفر اگر کوئی گاڑی کی کھڑکی سے کچرا باہر پھینک دے تو منع کرنے پر اکثر اوقات سننے کو ملتا ہے، "اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟"بہ ظاہر مطلب یہی نکلتا ہے کہ اگر ہم نہ پھینکیں گے تو کیا فرق پڑے گا کیوں کہ سبھی تو پھینک رہے ہیں اور سبھی پھینک رہے ہیں تو ہمارے بھی پھینک دینے سے کیا فرق پڑے گا؟

قابلِ افسوس حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر ماحولیات، نظامِ کائنات، حیاتیات ونباتات کے بگاڑ میں انتہائی منفی کردار ادا کررہے ہیں۔ اِنسان جس کو خدا نے حکمت بخشی، دانائی سے نوازا، زمین اور تمام نظام کائنات کو  اس کے کام میں لگا دیا ۔ وہی اِنسان اُس اختیار کا ناجائز استعمال کرکے محض یہ جملہ کہتا اور بری الذمّہ ہو جاتا ہے کہ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

ذرا سوچیے  اگر آپ کے کچھ منفی کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو پھر مثبت کر لینے میں کیا حرج ہے؟ آخر اُس سے آپ کو کیا فرق پڑ جائے گا؟مِن حیث القوم اِس قسم کا غیر ذمہ دارانہ روّیہ دیکھ کر دِلی طور پر افسوس ہوتا ہے۔ جب لوگ دانتوں کو برش کرتے ہوئے پورا وقت نل چلائے رکھتے ہیں، پانی بہتا چلا جاتا ہے ، قدرتی وسائل کا ضیاع ہوتا ہے مگر وہ اِتنی سی بات کہہ کر بری الذمّہ ہوجاتے ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیوں کہ ہمارے ہاں سرکاری پانی آتا ہے اوربس معمولی سابِل دینا پڑتا ہے۔

سرکاری پانی سے مستفید ہونے والے بعض عزیزوں کے ہاں تو ہم نے اکثر ٹونٹیاں خراب ہی دیکھی ہیں، مسلسل پانی بہتا رہتا ہے۔ مگر سوال کرنے پر پھر وہی غیر ذمہ دارانہ سا جواب  کہ  "اِس سے کیا فرق پڑتا ہے جی، چند قطرے پانی ہے؟"

ہم مانیں یا نہ مانیں، ہماری اِن تمام منفی سرگرمیوں کے باعث فرق پڑ رہا ہے اور ماحول پر بہت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہم چلتے چلتے پودوں کے پتے توڑ دیتے ہیں۔ باغوں میں تنبیہ اور پانچ سو رُوپے جُرمانے کے نوٹِس کے باوجود عملے سے آنکھ بچا کر پھول توڑنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ پبلک پارکوں میں جگہ جگہ جُرمانے کے نوٹِس اور انتباہ کے باوجودہم جہاں بیٹھتے ہیں وہاں پلاسٹک ریپرز، شاپنگ بیگ، ڈسپوزیبل گلاس، کپ، پلاسٹک کی بوتلیں وغیرہ بطور اثاثہ چھوڑ کر رُخصت ہوتے ہیں۔ مرنے والا جو اثاثہ اپنے پیچھے چھوڑتا ہے اُس سے لوگ اُس کی شخصیت، خاندانی پس منظر و وقعت کا اندازہ لگالیتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ  ہمارا یوں چھوڑا ہوا کچرا اِس بات کا غمازی ہوتا ہے کہ ہم جہالت و گمراہی کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے معاشرے کے باسی ہیں۔

 ویسے ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر پارک انتظامیہ نے گندگی پھیلانے والے کے لیےجُرمانے کا قانون بنایا ہے تو کم از کم عملے میں سے ایک شخص کو ہی رسید بُک پکڑا کر ڈیوٹی پر مامور کر دیا جائے، وہ رعب و دبدبے والا ہو اور چاہے پچاس رُوپے کا جُرمانہ ہو یا سو رُوپے کا......موقع پر اُس خاندان سے جُرمانہ لے اور رسید کاٹ کرتھما دے یا پھر پھینکنے والا معذرت کرے اور بطور سزا اُس کچرے کو خود کوڑا دان میں فوری طور پر پھینک کر آئے۔

ایک نہایت تکلیف دہ عمل  اور رویہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات قواعد و ضوابط بنائے گئے ہوتے ہیں، نوٹِس و جُرمانے بھی لگائے گئے ہوتے ہیں مگر بھرپور تلاش کرنے سے بھی کہیں کوئی کوڑا دان دکھائی نہیں دیتا۔ اَب ایسی صورتِ حال میں عوام کیا کریں؟  سلیم الطبع حضرات و خواتین کو اگر کبھی ایسی صورتِ حال  پیش آئے تو پہلے تو کچرا دان ڈھونڈتے ہیں، نہ ملے تو پارک کی انتظامیہ میں سے کسی کوڈھونڈتے اور اُن سے پوچھتے ہیں، پھر اُنہیں تجویز دیتے ہیں کہ یہاں مختلف جگہوں پر کوڑا دان ہونے چاہئیں۔  اور یہ بھی اہتمام کرتے ہیں کہ کوڑا یا کچرا یوں ہی پھینک دینے کی بجائے ایک شاپنگ بیگ میں جمع کرلیتے ہیں اور پارک یا سیر گاہ سے باہر گاڑی تک اگر کوئی کچرا دان مل جائے تو ٹھیک ورنہ گاڑی میں ہی رکھ لیتے ہیں اور کسی جگہ کوڑا دان آئے تو اُس میں پھینک دیتے ہیں۔

چند سال پہلے ہمیں اپنے خاندان کے ہمراہ وادیِ ہنزہ اور خنجراب بارڈر تک جانے کا اتفاق ہوا، ہمارے لیے انتہائی تکلیف دہ بات تھی جب ہم خوب صورت قدرتی منظر میں پلاسٹک کی بوتلیں اور شاپنگ بیگ گرے دیکھتے تھے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے انتہائی مہنگی اور قیمتی کاروں والے دورانِ سفر گاڑی کا شیشہ اُتارتے اور کبھی ڈسپوزیبل کپ کبھی پلاسٹک کی بوتل اور کبھی کچرے سے بھرا پورے کا پورا شاپنگ بیگ سڑک کے کنارے سرسبز گھاس اور رنگ برنگے پھولوں کی جانب اُچھال دیتے۔ پس منظر میں بہتے پانیوں کا جھرنا ہوتا اور اُس خوب صورت منظر کا ستیاناس ہو جاتا۔

سُنا ہے کہ یہ شاپنگ بیگ اور پلاسٹک کی بعض اشیا دو سو سے دو ہزار سال تک اپنا وجود نہیں کھوتیں یعنی ڈی کمپوز Decomposeنہیں ہوتیں۔ ذرا خیال کیجئے جس طرح ہم موہن جودڑو اور ہڑپا کے ذریعے اُس قوم کے رہن سہن کا اندازہ لگاتے ہیں تو اِسی طرح آنے والی نسلیں جب کھدائی کے بعد پلاسٹک ہی پلاسٹک نکالیں گی تو یاد کریں گی کہ ایک احمق نسل بھی اِس دُنیا سے ہو گزری ہے جس نے آگاہی و خبرداری کے باوجود اپنے ہی ہاتھوں اپنی زمین کو بنجر اور اپنے آپ کو فنا کر ڈالا۔ کیا سچ میں ہم آنے والی نسلوں کے لیے یہی اثاثہ چھوڑ کر جائیں گے۔

 حیرت ہوتی ہے کہ گاڑی میں سفر کرنے والوں نے اگر کھانے پینے والی چیزوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہوتا ہے توبھلا کھاپی لینے کے بعد ریپرز اور پلاسٹک کی خالی بوتل کا کتنا وزن ہوگا! اگر کچھ دیر گاڑی میں رہ بھی جائیں تو کیا فرق پڑے گا؟ راستے میں کوڑا دان آئے تو پھینک دیں ورنہ اپنی منزل پر پہنچ کر مناسب طریقے سے کچرے کو ٹھکانے لگا لینے میں بھی کوئی حرج نہ ہو گا۔ جی چاہتا ہے کہ ایسی کاروں کا تعاقب کرکے اُنہیں روکیں اور بتائیں کہ آپ اِس خوب صورت کائنات اور خدا کی عظیم الشان تخلیق کے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ مگر پھر رُکنا پڑجاتا ہے کہ ہم خود اِس جاہل قوم کا حصّہ ہیں اور یہاں لوگ غصے سے بھرے پڑے ہوتے ہیں، نہ جانے کون اچانک سے بپھر جائے یا پھر لاپروائی سے یہی جواب دے کہ

"اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟"

کچھ عرصہ پہلے ہم ایک دُکان میں داخل ہوئے تو سوزوکی مہران کار کے پچھلے شیشے سے ایک ہاتھ باہر نکلا اور کیلے کا چھلکا یونہی راہ میں پھینکنے کے بعد واپس اندر چلا گیا۔ غور کیا تو وہ خاتون تھیں، مَیں نے آگے بڑھ کر زمین پر پڑا کیلے کا چھلکا اُٹھایا اور کہا،  "مہربانی سے آئندہ ایسا نہ کیجئے گا، اِس سے آپ یا کوئی اَور پھسل سکتا ہے۔"

ہم  میں اکثر لوگ ایسے مناظر دیکھ چکے ہیں کہ   کئی افراد محض کیلے کے چھلکے سے پھسل کر ایسے گرے کہ عمر بھر کے لیے معذور ہوگئے۔ ہم پھر بھی یہ کہیں کہ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے تو ہماری حماقت ہی ہے۔ خدا نخواستہ اگر وہی خاتون دروازہ کھول کربے دھیانی میں تیزی سے اُترتیں اور اُن ہی کا پاؤں پھسل جاتا تو پھر یقینا" اُنہیں ہمیشہ یاد رہنا تھا کہ اِتنا معمولی سا کام کر دینے سے کتنا فرق پڑتا ہے؟

 بعض اوقات آپ کسی محفل میں کُرسی پر بیٹھتے ہیں اور جب اُٹھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ کسی نے اُس کے کسی کونے میں چیونگم چُبا کر لگارکھی تھی جو اَب آپ کے کپڑوں کے ساتھ چپک چکی ہے۔ حالانکہ ریپر یا ٹشو وغیرہ میں لپیٹ کر پھینکنے سے کیا فرق پڑنا تھا مگرافسوس کہ منفی کام کرنے والا نتیجے پر غور نہیں کرتا۔

جس طرح سے چھوٹے چھوٹے منفی کاموں کا بڑا منفی نتیجہ نکل سکتا ہے، اُسی طرح ہمارے چھوٹے چھوٹے مثبت کام بھی بڑے مثبت نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ ہم مثبت اقدام اٹھانے میں اِس لیے حوصلہ شکنی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ میرے اکیلے کے ایسا کرنے سے کیا فرق پڑے گا کیوں کہ پورے کا پورا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہے۔ اِس طرح ہم بھی لاشعوری طورپر باقی لوگوں کے دیکھا دیکھی منفی کام ہی سرانجام دینے لگتے ہیں۔

افسوس کہ ہم میں سے اکثر منفی کام اِسی سوچ کے تحت سرانجام دیتے رہتے ہیں کہ ہمارے تنہا مثبت کام کرنے سے کیا فرق پڑے گا؟حالاں کہ ہم چاہے بُرا کررہے ہوں یا اچھا، ہم اپنے اِرد گرد کے ماحول اور اپنے اِرد گرد بسنے والوں پر اثر انداز ہوتے اور ضرور کوئی نہ کوئی فرق پیدا کرتے ہیں۔

"اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے کچھ کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتاتو پھر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔"

اِس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہمارا دُنیا میں نہ کوئی مصرف ہے اور نہ ہی کوئی مقصد... اگرہمارے کرنے سے کچھ نہیں ہوگا تو پھر ہمارے ہونے سے بھی دُنیا میں کچھ نہیں ہورہا۔

آئیے ایک نئے عہد کے ساتھ آگے بڑھیں، اپنی شخصی و خاندانی اور رُوحانی زندگی کے لیے عہد و پیماں کرتے ہوئے تمام مخلوقات، حیاتیات اور ماحولیات کے حوالے سے بھی عہد کریں، اپنی ذمہ داری کو پہچانیں۔

 ماحول کو صاف رکھنے، قدرتی وسائل کو احتیاط سے برتنے اور خدا کی بنائی ہر شے کا خیال رکھنے کا عہد کریں، آپ کی کوشش ضرور مثبت نتائج پیدا کرے گی اور دوسرے بھی آپ کی تقلید کرتے ہوئے اپنے آپ کو بدلیں گے۔ بصورتِ دیگر ماہ و سال کے بدلنے اور آپ کی زندگی کے گزرتے رہنے سے بھی کیا فرق پڑے گا؟