کوئی مسافر بس اسٹاپ پہ بیٹھا بس کا انتظار کر رہا ہو اور اس کی نگاہیں کتاب پر جمی ہوں جس کی لکھائی میں وہ خود کو گم کیے ہوئے ہے اور ارد گرد سے بے گانہ ہے، اسے منزل سے نہیں اپنے سفر سے محبت ہونے لگتی ہے کیونکہ وہ اس  سفر کے خوبصورت ساتھی سے محبت کرنے لگتا ہے

 حمنہ کامران اسلام آباد

 قصہ خواں کا محبوب کتابیں ہوتی ہیں۔ وہ کتابیں پڑھتا ہے اور ایک وقت میں کئی زندگیاں جی رہا ہوتا ہے۔ انہی زندگیوں کے بکھیڑوں سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ نئے کردار تخلیق کرتا ہے، انہیں صفحے پر اتارتا ہے اور ان میں جان پیدا کر دیتا ہے۔ کتابیں حقیقی زندگی اور تخیل کے درمیان پل کا کام سر انجام دیتی ہیں،

انسان ان کو کھولتا ہے اور ان میں ہی کہیں گم ہوتا چلا جاتا ہے۔ کوئی مسافر بس اسٹاپ پہ بیٹھا بس کا انتظار کر رہا ہو اور اس کی نگاہیں کتاب پر جمی ہوں جس کی لکھائی میں وہ خود کو گم کیے ہوئے ہے اور ارد گرد سے بے گانہ ہے، اسے منزل سے نہیں اپنے سفر سے محبت ہونے لگتی ہے کیونکہ وہ اس  سفر کے خوبصورت ساتھی سے محبت کرنے لگتا ہے۔  جب حقیقی زندگی میں کچھ بھی خود کی مرضی کے مطابق نہ ہو رہا ہو تو انسان کو کسی دوسری دنیا میں جانا اچھا لگتا ہے جہاں سب کچھ ایک کہانی گر کے ہاتھ کی تخلیق ہوتا ہے اور اس کا اختتام ہماری مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔ کیونکہ انسان اس دنیا میں سکون ہی کھوجتا ہے جو اس کو کتابوں سے مل جاتا ہے۔

 اس دور میں جس کے ہاتھ میں کتاب دیکھ لی جائے  اسے پرانے زمانے کا  قرار دے دیا جاتا ہے۔ جب کتابیں پڑھنے کی عادت نہیں تھی تو کتاب پڑھنے والوں سے چڑ ہوتی تھی۔ خیال آتا تھا کی شاید ان کو اور کوئی کام نہیں ہے اسی لیے ایک خیالی دنیا بسائے بیٹھے ہیں۔ خود کو عادت ڈالی تو کتابوں کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ اب یونی ورسٹی سے واپسی پر بس میں سوار ہوتے ہوئے ہاتھ میں کتاب ہوتی ہے کہ دو لمحے مل ہی گئے ہیں تو سکون سے کتاب پڑھ لی جائے۔ شام میں ڈوبتے سورج کے منظر کے ساتھ کتاب پڑھنا شرط ہے۔ پورے دن کی تھکاوٹ کے بعد جب بھی دو پل فراغت کے نصیب ہوں تو کتابیں ہمیشہ ایک ہمدرد ساتھی کی طرح موجود ہوتی ہیں۔ پھر انہی کتابوں کے بارے میں بات کرنا اچھا لگتا ہے۔ مختلف کرداروں کی زندگیوں کو ٹٹولنا  اور ان سے کچھ سیکھنا اچھا لگتا ہے۔ کتاب کی خوشبو اور اس کے صفحے کو ہاتھوں سے محسوس کرنا ایک خوشگوار احساس ہے۔ امید کرتی ہوں کہ اب کے بعد آپ لوگ بھی کتاب پڑھنے کا اور اس کی کہانیوں میں کھو جانے کا شوق رکھیں گے۔ میں نے  کسی جگہ پڑھا تھا  کہ یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔ یہ بات میرے دل میں کھب سی گئی ہے کیونکہ یہ سچ ہے کہ یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔