محمد حمزہ صدیقی

کچراچی وہ مظلوم ترین شہر ہے جو ہر ایک کو ٹھکانا دینے کے لیے تیار، ہر مصیبت زدہ کی مدد کرنے میں پیش پیش، قدرتی آفات میں متاثرین کا ایک بہت بڑا سہارا لیکن یہاں کے اپنے باسیوں کا حال یہ ہے کہ بجلی، گیس، پانی، صحت، تعلیم، جانی و مالی تحفظ، ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کے بد ترین نظام کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

* گرمیوں میں بجلی نہیں

* سردیوں میں گیس نہیں

* بیشتر علاقے سالہا سال سے پانی کی نعمت سے محروم

* سرکاری ہسپتالوں کا کوئی پرسان حال نہیں، راستے میں پڑے بے یار و مددگار مریض، بستروں پر پڑے جاں بہ لب مریضوں کی موت کے منتظر

* وسیع و عریض رقبے پر قائم سرکاری اسکول و کالج کچرا کنڈی کا منظر پیش کرتے ہیں، نہ استاد پڑھانے کے لیے تیار اور نہ ہی بچے پڑھنے کے لیے تیار، تعلیم پر لاکھوں روپیہ خرچ ہونے کے باوجود نتیجہ صفر اور امتحانات میں نقل مافیا کا راج

*  جان محفوظ، نہ ہی  مال ، چوری ڈکیتی کی وارداتیں یہاں کے باسیوں کا مقدر بن چکی ہیں معمولی سی مزاحمت پر انسان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور حال یہ ہو چکا ہے کہ یہاں کا شہری اب گھر سے باہر نکلتے ہوئے اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگا ہے

* سڑکیں بدترین ٹوٹ پھوٹ کا شکار، گاڑیوں کی طویل قطاریں، چنگ چیوں کی بے ہنگم پروازیں اور ان پروازوں کی گونج میں دوڑتی اور سسکتی زندگیاں!!!!!!!

کیا تھا یہ شہر اور کیا سے کیا ہو گیا

تہذیب و تمدن کا شہر

لکھنو اور دلی کی روایات کا امین شہر

روشنیوں کا شہر

اب کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے

گالم گلوچ، ماوا اور گٹکا اس شہر کی پہچان بن چکا ہے

معلوم نہیں اس کی قسمت میں سنورنا ہے کہ نہیں یا پھر ہمیشہ اسے نوچنے والے ہی اس پر مسلط رہیں گے