جسے آپ فیملی ڈانس کہہ رہے ہیں اس طرح کے ناچ کے لیے پہلے باقاعدہ کوٹھوں یعنی ریڈ لائٹ ایریا سے طوائف زادیاں بلائی جاتی تھیں، البتہ اب لوگ گھروں میں  اپنی ہی شہزادیاں اس کام کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ اپنی ہی بیٹیوں کو ان کاموں پر سراہتے ہیں، خود بھی دیکھتے ہیں، دوسروں کو بھی دکھاتے ہیں، ویڈیوز بنا بنا کر وائرل بھی کرتے ہیں۔

 مہوش کرن

 نئی اصطلاح لگ رہی ہے۔ آج کل کافی in ہے۔

مگر آپ اتنا سنجیدہ کیوں ہوتے ہیں۔؟ دراصل شادی میں جب مہندی، مایوں، ڈھولک کی رسم ہو اور گھر کی بچیاں، بچیوں کی کزنیں، دوستیں ذرا سا ہلا گلا کر لیں تو اسے کہا جاتا ہے۔ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے تو آپ بھی مت بنائیے۔

چلیں مان لیا ہے، مگر ہوتا کیسے ہے۔؟بھئی جس کی جتنی بساط اتنا اس کا اسٹیج ہوتا ہے۔ اپر کلاس میں بڑی سجاوٹ، بیچ میں لکڑی یا لوہے کا چوکور زمینی اسٹیج۔ جو چاروں طرف سے روشنیوں سے سجا ہوتا ہے، ارد گرد نشستیں ہوتی ہیں۔ مڈل کلاس میں ٹینٹ میں کرسیاں رکھتے ہیں اور بیچ میں رنگ برنگی چادروں یا شیٹ سے ہی یہ ماحول بنا دیا جاتا ہے۔ یعنی جتنی جس کی اوقات ہے وہ اس حد تک کوشش کر رہا ہے، بھئی کمال ہمت ہے۔ وقت کے ساتھ چلنے کی کوشش ہو تو ایسی ہو۔ اور وہ جو کہیں کہیں بچیوں کے ساتھ بچہ بھی ہوتا ہے (جو بچہ کیا پورا مرد ہی ہوتا ہے) اس بارے میں کیا کہیں گے۔؟

ارے وہ تو بھائیوں نے ہاتھ بٹا دیا۔ بھئی آخر فیملی ڈانس ہے تو کیا ہوا اگر اس کام میں بہنوں کے ساتھ ذرا سا ہاتھ لگا دیا۔

نہیں جناب، یاد رکھیے گا اس بھائی نے چاہے سگا ہوا یا رشتے کا ذرا نہیں پورا پورا ہاتھ لگایا ہوتا ہے۔ کبھی ڈانس اسٹیپس کے بہانے، کبھی شیطان کے اکسانے کے بہانے۔ 

اب اگر آپ کی غیر سنجیدگی ختم ہوگئی ہو تو  ذرا اس پہلو پر بھی غور کر لیجیے کہ جسے آپ فیملی ڈانس کہہ رہے ہیں اس طرح کے ناچ کے لیے پہلے باقاعدہ کوٹھوں یعنی ریڈ لائٹ ایریا سے طوائف زادیاں بلائی جاتی تھیں، البتہ اب لوگ گھروں میں  اپنی ہی شہزادیاں اس کام کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ اپنی ہی بیٹیوں کو ان کاموں پر سراہتے ہیں، خود بھی دیکھتے ہیں، دوسروں کو بھی دکھاتے ہیں، ویڈیوز بنا بنا کر وائرل بھی کرتے ہیں اور آفرین ہے ان میزبان خواتین پر جو ایسے ٹک ٹاکرز کو اپنے مارننگ شو میں بلا کر داد و تحسین سے نوازتی ہیں۔ استغفراللہ کہ انہیں کوئی اعلی چیز بنا کر پیش کرتی ہیں۔

جناب یہ کوئی اسلامک اسٹڈیز، فزکس یا اردو میں گولڈ میڈلسٹ نہیں، کوئی فوجی، ڈاکٹر، پائلٹ نہیں، کوئی سائنس دان، سلائی کڑھائی کی ماہر نہیں، کوئی کھلاڑی، روبوٹکس میں اول، فلاحی کاموں میں پیش پیش نہیں، کوئی حافظہ، معلمہ، درس و تدریس یا کیلی گرافی میں طاق نہیں بلکہ صاف اور کھرے الفاظ میں یہ ناچنے والیاں ہیں۔ ان جیسوں کو بلا کر اور عزت سے نواز کر معاشرے میں کون سی مثال قائم کی جا رہی ہے۔؟

پہلے پہل تو کوٹھے والیوں کے باپ کا پتا نہیں ہوتا تھا۔ پھر اسی میڈیا زدہ معاشرے نے انہیں ایک مجبور طبقہ بنا کر ایسا پیش کیا کہ اب باپ والیوں نے بھی یہ پیشہ چن لیا۔ اور ان کے باپ بھائیوں نے انہیں ٹک ٹاکرز کا نام دے دیا۔ صحابیات اور امہات المومنین کے ناموں جیسے نام رکھ کر ایسے کردار و افکار کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

ارے کوئی تو انہیں روکے اورسمجھائےکیا عقل اتنی بھوکی تھی کہ بغیر سوچے سمجھے ہی بے سمت حرام گھاس چرنے نکل گئی۔ اب تو یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ ماتم کس کس بات اور کن کن لوگوں پر کریں۔ ہر روز ایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے، ایک نئی بے حیائی بڑے پیمانے پر پھیلتی نظر آتی ہے۔

برباد یئ گلشن کے لیے بس ایک ہی الو کافی تھا

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے،انجام گلستان کیا ہوگا