٭دسترخوان ایک بے جان چیز ہوتے ہوئے بھی جانداروں کے درمیان محبت پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

٭جتنی آب و تاب سے مختلف اقسام کے پکوڑے ہمارے دسترخوان پر موجود ہوتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ہمارا نفس "پکوڑوی خواہشات" کا غلام بن گیا ہے

ہانیہ محمود
قرآن پاک میں ایک سورۃ "سورۂ مائدہ" ہے۔ مائدہ عربی میں "دسترخوان" کو کہتے ہیں۔

اس سورۃ کا نام مائدہ اس لیے ہے, کیونکہ اس  میں حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کا آسمانی دسترخوان طلب کرنے کا ذکر ہے۔ ان کے لیے آسمان سے دسترخوان اترا 'اللہ کا دسترخوان'۔ انہوں نے دستر خوان کی خواہش کس وجہ سے کی اور ان کی نیت کیا تھی ،یہ ایک الگ بات ہے۔ دسترخوان ایک بے جان چیز ہوتے ہوئے بھی جانداروں کے درمیان محبت پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

 ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپس میں محبت بڑھانے کا عملی طریقہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی حکیمانہ اور بہترین مشورہ دیا کہ "مل جل کر کھایا کرو"۔ ایک ہی دسترخوان پر مل جل کر کھانا محبت بڑھانے کا واقعی بہترین طریقہ ہے۔ دستر خوان اللہ جی کی بہت سی برکتوں کے  نزول کا سبب بنتا ہے۔ ہم اپنے تمام گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر اور اللہ کا ذکر کر کے جب کھانا کھاتے ہیں تو اس وقت اللہ جی کی نازل کی ہوئی برکتوں پر غور کریں کہ کیسے تھوڑے سے کھانے سے ہی ہم سیر ہوجاتے ہیں۔ اور ان سب کی تعلیم ہمیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال  (1400) پہلے ہی دے دی (سبحان اللہ) کہ "مل کر کھانا کھایا کرو اور اللہ کے نام کا بھی ذکر کرو" تمہارے کھانے میں برکت ہوگی۔ اور دسترخوان کا یہ فائدہ بھی ہے کہ ساتھ بیٹھ کر کھانے سے انسان کی پرکھ ہوتی ہے کہ کون کس مزاج و عادت کا مالک ہے۔
                 ہم دستر خوان پر طرح طرح کے لوازمات سجاتے ہیں ان ہی میں سے ایک "پکوڑے صاحب" بھی ہیں۔ پکوڑوں کے آغاز کا ذمے دار ایک مورخ نے ایک مکرانی کو قرار دیا ہے۔  جس نے بیسن کی کچھ ٹکیاں  تیل میں پھینکیں اور چولہا جلانا بھول گیا۔ پھر جب کافی دیر تک وہ نہ بنیں تو مکرانی غصے سے چلایا "پکو----ڑے"۔ بس یہی آغاز تھا ہمارے پکوڑوں کا۔ جتنی آب و تاب سے مختلف اقسام کے پکوڑے ہمارے دسترخوان پر موجود ہوتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ہمارا نفس "پکوڑوی خواہشات" کا غلام بن گیا ہے۔ خیر دسترخوان پر جو بھی اشیاء موجود ہوں،ہمیں اس کی خوب قدر کرنی چاہیے۔ عمیرہ احمد لکھتی ہیں کہ: 'پانی بھی اس کا،دانہ بھی اس کا، وہ چاہے تو پانی والوں کو دانے والا کردے اور چاہے تو دانے والوں کو پانی کے لئے ترسا دے۔جس طرح ایک سنار ہی اصل سونے کی پرکھ رکھتا ہے۔ بالکل اسی طرح ایک اچھا انسان ہی دسترخوان کی قدر کرتا ہے۔ ایک واقعہ نقل کرتی ہوں:
              "اصفہان کا ایک بہت بڑا رئیس اپنی بیگم کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا ہوا تھا۔ دسترخوان اللہ کی نعمتوں سے بھرا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک فقیر نے صدا لگائی کہ اللہ کے نام پر کچھ کھانے کے لئے دے دو۔ اس شخص نے اپنی بیوی کو حکم دیا کہ سارا دسترخوان اس فقیر کی جھولی میں ڈال دو۔ عورت نے شوہر کے حکم کی تعمیل کی, جب اس عورت نے فقیر کا چہرہ دیکھا تو رونے لگی۔ اس کے شوہر نے عورت سے پوچھا: بیگم آپ کو کیا ہوا ہے؟ اس عورت نے بتایا کہ جو شخص فقیر بن کر ہمارے دروازے پر دستک دے رہا تھا وہ چند سال پہلے اس شہر کا سب سے بڑا مالدار،ہماری اس کوٹھی کا مالک اور میرا سابق شوہر تھا۔ چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہم دونوں دسترخوان پر اسی طرح بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے۔ اتنے میں ایک فقیر نے صدا لگائی کہ میں دو دن سے بھوکا ہوں, اللہ کے نام پر کھانے کے لئے کچھ دے دو۔ وہ شخص دسترخوان سے اٹھا اور اس نے اس فقیر کو اس قدر مارا کہ اس فقیر کو لہولہان کردیا، خدا جانے اس فقیر نے کیا بددعا دی کہ اس کے حالات بدل  گئےکاروبار بالکل ٹھپ ہوگیا , اور وہ شخص فقیر ہوگیا, اس نے مجھے بھی طلاق دے دی اور چند سال گزرنے کے بعد میں آپ کی زوجیت میں آگئ۔ شوہر بیوی کی یہ باتیں سن کر کہنے لگا: بیگم کیا میں آپ کو اس سے زیادہ تعجب خیز بات بتاؤں؟ جس فقیر کو آپ کے سابق شوہر نے مارا تھا, وہ کوئی اور نہیں بلکہ میں ہی تھا۔" اس نے اپنے بھرم میں اللہ کا ہی رزق اللہ کے بندے کو نہیں دیا۔ ہمارے دسترخوان پر جو بھی کچھ موجود ہوتا ہے۔ وہ اللہ جی کا ہی دیا ہوا ہے۔ اسے اپنی ملکیت نہ سمجھیں۔  'وہ قادر ہے جسے چاہے رزق دے'۔ ہم اس کے امر میں دخل اندازی نہیں کرسکتے۔ اے آدم ذات! کبھی تو نے سوچا ہے کہ روزی رساں اتنی بڑی مخلوق کو کس طرح روزی فراہم کرتا ہے۔ اللہ کے دستر خوان سے روزانہ آٹھ (8) ارب انسان کھانا کھاتے ہیں۔ دسترخوان تو ایسی چیز ہے کہ اسے جھاڑنے کا بھی ایک فن ہے۔

 ہماری سوچ ہے دسترخوان جھاڑنے میں کیسا علم و فن؟ جبکہ حضرت مولانا سید اصغر حسینؒ نے فرمایا: "دسترخوان جھاڑنا بھی فن ہے"۔ کیونکہ انہی بزرگؒ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ "دسترخوان پر موجود سب ذرّات اللہ جی کا رزق ہے جس کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔" کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا دسترخوان سے لقمہ اٹھا کر کھانے سے اولاد میں خوبصورتی اور رزق میں برکت ہوتی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دسترخوان پر گرے ہوئے لقمے اٹھا کر صاف کر کے کھانے کے فضائل احادیث مبارکہ میں وارد ہوۓ ہیں۔ لیکن اس بات کا کہیں ذکر نہیں ہے کہ اس سے اولاد خوبصورت ہوتی ہے۔ البتہ اس کی وجہ سے رزق میں برکت ہوتی ہے اس کا تذکرہ موجود ہے۔
                  ہمیں اپنے دسترخوان کو پاکیزہ اور حلال چیزوں سے سجانا ہے۔ کیونکہ "کھانا بھی دین کا جز ہے۔"