دونوں خواتین دنیا و مافیہا سے بے خبر باتیں کرنے میں مگن تھیں،جوں ہی بس نے ہارن بجا کر تمام مسافروں کو ہوشیار کیا، مسافر جلدی جلدی بس میں سوار ہونے لگے۔ میں بیگم کی طرف لپکا۔ ہم بس میں سوار ہو گئے۔ بیگم میری بے صبری بھانپ کر بولیں :
"صاحب! یہ لڑکی گھر سے بھاگی ہوئی ہے۔"
بیگم سیدہ ناجیہ شعیب احمد کراچی
سفر کا آغاز ہوچکا تھا۔ بس کی میزبان خاتون نے مائیک سنبھال لیا اور مسکراتے ہوئے تمام مسافروں کو خوش آمدید کہا۔ ضروری ہدایات دینے کے بعد میزبان خاتون اپنی نشست سے کمر ٹکا کر کھڑی ہوگئی، اب وہ تنقیدی نظروں سے بس میں سوار مسافروں کا جائزہ لینے میں مصروف تھی۔ وہ 14 گھنٹے کے تھکا دینے والے سفر کے دوران بمشکل ہی گھڑی دو گھڑی ٹک کر بیٹھی ہوگی۔ جسمانی تھکن غالب تھی۔ مگر ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ چسپاں۔ ہوس پرست مردوں کی آر پار ہوتی ناپاک نگاہوں سے چھلنی ، چپ چاپ لفظی تشدد سہتی اس مجبور بےبس اور لاچار مخلوق پر مجھے بے انتہا ترس آیا۔ میں اپنی بیگم کے ساتھ محوِ سفر تھا۔ ویسے مرد ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں نظروں ہی نظروں میں اسے ٹٹول چکا تھا، پھر بھی گاہے گاہے میری نگاہ سامنے پڑ جاتی تو اسے ٹک ٹک اپنی جانب مبذول پاکر چھینپ جاتا۔
بالآخر میں نے بیگم کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہہ ہی دیا کہ یہ میزبان خاتون مسلسل ہماری جانب دیکھ رہی ہے۔ مجھے بہت عجیب محسوس ہو رہا ہے۔ مگر بیگم کا جواب سن کر مجھے ایک جھٹکا سا لگا۔
"صاحب! لگتا ہے بےچاری کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی ،جبھی ہمیں حسرت سے تَک رہی ہے۔ رکیں میں نظر کی دعا پڑھ کر ہم دونوں پر دم کر دیتی ہوں۔" پھر اس نے میزبان خاتون کی طرف دیکھتے ہوئے دعائیہ کلمات کہہ کر جذب سے آنکھیں بند کر لیں۔ اور میں نے بھی آمین کہتے ہوئے مطمئن ہو کر آنکھیں موند کر سیٹ سے ٹیک لگا لی۔
میری عادت ہے کہ بیگم یا اہل خانہ کے ساتھ سفر کرتے ہوئے ان کے آرام اور سکون کا خیال رکھنے کی ممکن حد تک کوشش کرتا ہوں۔ اس مرتبہ دورانِ سفر بیگم کی طبیعت کچھ ناساز تھی، اس وجہ سے پہلے سے زیادہ مجھے ان کی فکر لاحق تھی۔ عادتاً بار بار ان کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھتا آپ ٹھیک ہیں، کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔ سردی تو نہیں لگ رہی۔"
سفر کرتے ہوئے دن ڈھلنے لگا تو شام کی سرخی نیلے آسمان پر چھانے لگی۔ بیگم نے کسمسا کر پہلو بدلا، ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے مجھے کن اکھیوں سے دیکھا میں فوراً بولا: "پانی پئیں گی؟" پلٹ کر دیکھا تو میزبان خاتون نے جھٹ پانی کی بوتل نکال کر پانی گلاس میں بھرا اور میری طرف بڑھا دیا۔ میں حیران حیران سا تھا صد شکر کہ بیگم کھڑکی سے باہر نظارہ دیکھنے میں مصروف تھی۔
میزبان خاتون مسکراتے ہوئے کہنے لگی: "آپ لوگوں کی نئی نئی شادی ہوئی ہے؟"
میں نے کہا: "جی نہیں۔"
"اوہ مگر جس طرح آپ ان کی فکر کر رہے ہیں ،ایسا خیال کوئی نیا نویلا شادی شدہ مرد ہی رکھتا ہے۔" وہ حسرت سے بولی.
اور میں نے زیر لب الحمدللہ کہتے ہوئے بوجھل دل سے اس ڈھلتی ہوئی عمر کی لڑکی کو دیکھتے ہوئے صدق دل دعا دی۔ "اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین شریک حیات نصیب فرمائے۔"
بس خیر وعافیت کے ساتھ جانبِ منزل رواں دواں تھی۔ عصر اور مغرب راستے میں ہوئی تو بس والوں کی مہربانی سے دس دس منٹ کے پڑاؤ کے دوران ہم نے نمازیں پڑھ لی تھیں۔ اب رات ہو چلی تھی ،سو ہم نے بس میں ہی طے کر لیا تھا کہ جوں ہی بس رکے گی سب سے پہلے اتر کر عشاء کی نماز ادا کریں گے۔ رحیم یار خان بس ٹرمینل پر بس جا رکی۔ یہاں آدھے گھنٹے کا قیام تھا۔ سو بیگم وضو کے لیے خواتین کے لیے بنائے گئے واش روم کی جانب بھاگیں اور میں حضرات کے حصّے کی طرف دوڑا۔ بیت الخلا کے پاس رش ہونے کے باعث ہر مسافر پر بہت عجلت اور جھنجھلاہٹ سوار تھی۔ خیر نماز ادا کرنے کے بعد بیگم کے پاس پہنچا۔ تو دیکھا میزبان خاتون بیگم کے ساتھ سرگوشیوں میں مصروف ہیں۔ حیرت سی ہوئی۔ بہرحال کھانے پینے کے لیے بسکٹ نمکو خرید کر میں ٹہلنے لگا۔ دونوں خواتین دنیا و مافیہا سے بے خبر باتیں کرنے میں مگن تھیں ،جوں ہی بس نے ہارن بجا کر تمام مسافروں کو ہوشیار کیا۔ مسافر جلدی جلدی بس میں سوار ہونے لگے۔ میں بیگم کی طرف لپکا۔ ہم بس میں سوار ہو گئے۔
"صاحب! یہ لڑکی گھر سے بھاگی ہوئی ہے۔" بیگم نے میری بے صبری بھانپ لی تھی۔ (مزاج آشنا ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بنا کچھ کہے شریکِ حیات آپ کی منشا جان لیتا ہے)۔ اب آگے کی کہانی بیگم کی زبانی:
"نور العین کو ائیر ہوسٹس بننے کا شوق تھا۔ جبکہ اس کا گھرانا قدرے دین دار تھا جہاں اس طرح کی جاب کی اجازت نہیں مل سکتی تھی۔ چوں کہ وہ اپنی مقررہ کردہ حدود سے باہر نکل رہی تھی سو پہلے تو اسے نرمی سے سمجھایا بجھایا گیا۔ نور کے مسلسل ضد پر اڑے رہنے کا حل سب سے بہتر یہی نکالا گیا کہ اس کی شادی کر دی جائے۔ اچھا لڑکا دیکھ کر اسے بیاہ دیا گیا۔ مگر اس پر تو جنون سوار تھا۔ دو ماہ میں ہی نور نے اپنے شوہر سے اپنی دیرینہ خواہش کا اظہار کر ڈالا۔ غیرت مند اور باحیا شوہر نے اپنی شریک حیات سے بہت محبت اور مان سے کہا کہ جب میں کمانے کے لیے موجود ہوں تو تمہیں "ایسی" نوکری کرنے کی کیا ضرورت؟ پر نور کو تو اپنے گھر والوں کی پابندی اور ہر وقت کا روکنا ٹوکنا گوارا نہیں تھا۔ شوہر کی نصیحت نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور سونے پہ سہاگا، محلے میں کسی لبرل آنٹی نے اسے مشورہ دیا کہ یہ شوہر تو بلاوجہ سختیاں کرتے ہیں، چاہتے ہیں کہ ہم ان کی زرخرید لونڈی بن کر بس انہی کی خدمتیں کرتیں رہیں۔ بھئی یہ ہماری زندگی ہے اسے ہم جیسے چاہیں گزاریں۔ یہیں سے نور کی تباہی کا آغاز ہوا۔ وہ اپنی فضول خواہش کی بھینٹ چڑھ گئی۔ اپنے مرضی کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کر کے وہ شوہر کے گھر سے بھاگ کر آنٹی کے پاس چلی آئی۔ اس نام نہاد آنٹی نے اسے پٹی پڑھا کر بس کی ہوسٹس بننے پر مجبور کر دیا۔ گھر کی ملکہ اب بس میں غیر مردوں کی میزبانی کرتی ہے۔ مگر میری مرضی کا نعرہ بلند کر کے اپنی مرضی کی زندگی گزارنے والی نور اکتا گئی ہے۔ آج نور سخت پشیمان اور نادم ہے۔ وہ اس "قید لبراں" سے آزاد ہونا چاہتی ہے مگر اس کی واپسی کے تمام راستے مسدود ہیں۔ اس پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے۔ اور ستم ظریفی یہ کہ والدین کا انتقال ہو گیا ہے، بہن بھائی اپنی زندگیوں میں مست و مگن ہیں۔ شوہر نے بھی دوسری شادی کر کے اپنا اجڑا گھر بسا لیا ہے۔ نور در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیے تنہا رہ گئی ہے۔
ہمیں ہنستا بستا دیکھ کر اسے اپنی ازدواجی زندگی کے بیتے دن یاد آرہے تھے آہ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ہم ماسوائے دکھ اور افسوس کرنے کے نور کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
جائیں تو جائیں کہاں
سمجھے گا، کون یہاں
درد بھرے دل کی زباں